یمن پر سعودی جارحیت خوراک کی کمی 85 ہزار بچے جاں بحق ہوگئے

0

گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 80 کروڑ سے زائد افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں 22 ممالک شدید غذائی بحران کا شکار ہیں جبکہ جارحیت کے شکار ملکوں میں لاکھوں افراد کو خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔۔۔

جنیوا (میزان نیوز) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے عالمی برادری کو متنبہ کیا ہے کہ یمن پر سعودی اتحاد کی مسلط جنگ کے نتیجے میں بدترین قحط کا شکار ہے اور دنیا نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو اس صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ رونما ہوجائے گا جبکہ یمن میں بچوں کے امور کے عالمی ڈائریکٹر تیمور کیرولوس کا کہنا ہے کہ ہم بہت خوفزدہ ہیں کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک خوراک کی انتہائی کمی کے باعث 85 ہزار بچے جاں بحق ہوگئے، عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو سعودی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں یمن بدترین قحط کا شکار ہوجائے گا، جس میں لاکھوں جانوں کے ضیاں کا خطرہ ہے، فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹینو گوتریش نے یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امداد میں شدید کمی اور اس ملک کے اقتصاد کیلئے غیر ملکی حمایت یمن کے بحران میں شدت کا باعث بنی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یمن پر جاری حملے اور عوام تک امدادی اشیاء پہنچنے میں رکاوٹ اس ملک کے بحران میں شدت آنے کی ایک اور وجہ ہے، گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 80 کروڑ سے زائد افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں 22 ممالک شدید غذائی بحران کا شکار ہیں جبکہ جارحیت کے شکار ملکوں میں لاکھوں افراد کو خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں، جس کی زندہ مثال یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت ہے، ان کا کہنا تھا کہ بھوک کے باعث بچوں کے اندرونی اعضاء بتدریج اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں اور بچوں کی موت ہوجاتی ہے تاہم والدین اپنے بچوں کو یوں موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply