یمن خلاف سعودی فوجی اتحاد کے جنگی جرائم، تحقیقات خود ملزم کرئیگا

0

اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی فوجی اتحاد پر یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا جو جنگی جرائم قرار دیئے جاسکتے ہیں سعودی فوجی اتحاد میں متحدہ عرب امارات، مصر، بحرین اور سوڈان شامل ہے۔۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) یمن کے خلاف لڑنے والا سعودی فوجی اتحاد نے از خود جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کیلئے جوائنٹ انسیڈینٹ اسسمنٹ ٹیم (جے آئی اے ٹی) تشکیل دی گئی ہے، جو یمن میں اتحادی فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کرئے گی، جس کے بعد سعودی اتحادی فوج کے اہلکاروں کو عدالتی عمل سے گزر نا پڑے گا تاکہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزام کی صفائی پیش کرسکیں سعودی فوجی اتحاد سنہ 2015ء سے یمن میں شہریوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ نے بھی انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسکی آزادانہ تحقیقات کرانے کی تجویز دی ہے، اس سلسلے میں سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اعلان کیا کہ جب مارچ 2015 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر یمنی گروہوں کا قبضہ ہونے کے بعد سعودی فوجی اتحاد نے یمن پر حملہ کیا، فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی حکام نے مقدمات کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور جب وہ کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچ جائیں گے فیصلے کا اعلان کردیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی کارروائی جوائنٹ انسیڈینٹ اسسمنٹ ٹیم (جے آئی اے ٹی) کی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی جسے سعودی فوجی اتحاد نے تشکیل دیا تھا لیکن اسکی آزادانہ حیثیت پر سوال اپنی جگہ قائم ہے، جن مقدمات کی تحقیقات کی جائیں گی ان میں 2018ء میں یمن کے شمالی علاقے میں ایک اسکول بس پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں کم از کم 40 بچے شہید ہوگئے تھے، علاوہ ازیں اُسی برس یمن کے صوبہ حجاج کے علاقے بنی قیس میں ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے حملے کی تحقیقات بھی کی جائیں گی جس میں 20 افراد شہید ہوگئے تھے، علاوہ ازیں تحقیقات میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈز (ایم ایس ایف) کے زیر انتظام ایک ہسپتال پر 2016ء میں کی گئی ہلاکت خیز بمباری کا واقعہ بھی شامل ہے جو 19 افراد کی شہادت کی وجہ بنا تھا، ان واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد سعودی فوجی اتحاد نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سعودی اتحاد میں شامل ہر ملک کے قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کا وعدہ کیا تھا، خیال رہے کہ سعودی فوجی اتحاد میں متحدہ عرب امارات، مصر، بحرین اور سوڈان شامل ہیں لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کے ستون ہیں جو 2015ء سے یمنی شہروں پر جنگی طیاروں سے حملے کررہے ہیں، اس وقت سے لے کر اب تک اس لڑائی میں دسیوں ہزار افراد مارے جاچکے ہیں جس میں زیادہ تر عام شہری تھے، لاکھوں افراد دربدر ہونے پر مجبور ہوئے جس پر اقوامِ متحدہ نے اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا تھا، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سعودی فوجی اتحاد پر یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا جو جنگی جرائم قرار دیئے جاسکتے ہیں، ستمبر 2017 میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جنگی جرائم کے تفتیش کار کو تعینات کیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ جہاں ممکن ہوسکا ہر اس شخص کو شناخت کرچکے ہیں جو بین الاقوامی جرائم کا ذمہ دار ہوسکتا ہے، بعدازاں انہوں نے ایک خفیہ فہرست اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ مشعل بیچلیٹ کو فراہم کی تھی، تاہم سعودی عرب کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد نے ماہرین کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply