یمنی فوج کا سعودی اتحاد کی عسکری قیادت پر ڈرون حملہ 6 اہلکار ہلاک

0

یمنی فوج کے ڈرون حملے میں صوبہ لحج کے گورنر احمد عبداللہ الترکی، عسکری کمانڈر صالح ال زندانی، انٹیلی جنس سربراہ صالح طمع، سینیئر کمانڈر فدل حسن سمیت اہم فوجی قیادت بھی زخمی ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

صنعا (میزان نیوز) یمنی فوج کی جانب سے سعودی اتحادی فوج کی پریڈ پر ڈرون طیارے سے حملہ کیا گیا ہے، جس میں کم از کم 6 عسکری اہلکار ہلاک ہوگئے، یمنی فوج نے کہا کہ انہوں نے سعودی اتحاد کے زیر انتظام صوبے لحج میں واقع العند ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں اہم کمانڈر سمیت 12 افراد زخمی بھی ہوئے، ویڈیو فوٹیج میں فوجی پریڈ کے دوران اسٹیج پر ڈرون طیارے کے حملے کو دیکھا جا سکتا ہے، جہاں موقع پر سعودی حمایت یافتہ ملیشیا کے سربراہ سمیت اہم کمانڈرز موجود تھے، موقع پر موجود فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نمائندے نے دعویٰ کیا کہ حملے میں سویلین بھی زخمی ہوئے، یمن کے سرکاری ٹی وی چینل المسیرۃ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ ایک ڈرون طیارے کے ذریعے کیا جس کا نشانہ سعودی حمایت یافتہ عسکری قیادت تھی، یہ کارروائی سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں انجام پائی ہے دوسری جانب یمنی فوج نے کہا ہے کہ ڈرون حملے میں چھ سعودی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، سعودی اتحاد کے ہسپتال میں موجود ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس ڈرون حملے میں صوبہ لحج کے گورنر احمد عبداللہ الترکی، عسکری کمانڈر صالح ال زندانی، انٹیلی جنس سربراہ صالح طمع، سینیئر کمانڈر فدل حسن سمیت اہم فوجی قیادت بھی زخمی ہوئے ہیں، سعودی اتحاد نے تصدیق کی کہ حملے کے وقت یمن کے عسکری چیف عبداللہ النخی بھی اسٹیج پر موجود تھے لیکن وہ زخمی ہونے سے محفوظ رہے، یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک دن قبل ہی اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن گریفیتھ نے کہا تھا کہ خانہ جنگ کے مکمل خاتمے کیلئے حتمی مذاکرات سے قبل زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ پیشرفت درکار ہے، یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام یمن اور سعودی اتحاد کے درمیان معاہدے ہوئے تھے جس کے تحت باغیوں کے قبضے میں موجود حدیدہ پورٹ سمیت تعز شہر میں بھی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ چار سال سے جاری یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا لیکن حملے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ سعودی اتحاد کی جارحیت کی وجہ سے یمن، تاریخ کے بدترین انسانی المیے سے دوچار ہے جہاں ایک کروڑ لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ 

Share.

About Author

Leave A Reply