یمنی حوثی امریکی دہشت گرد فہرست سے خارج، اقوام متحدہ کا خیرمقدم

0

اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق حوثی قبائل کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھوک و افلاس سے متاثرہ غریب ترین ملک یمن میں امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں اور یہ ملک بڑے پیمانے پر قحط میں مبتلا ہوسکتا ہے۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یمنی کے حکمراں گروہ حوثی باغیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے سے جنگ میں تکلیفیں جھیلنے والے یمن کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں آسانی ہوگی، عالمی تنظیم کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس کے تحت سابق انتظامیہ کے حوثی قبائل کو بیرونی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے، ترجمان اسٹیفن دوجیرک نے ایک بیان میں کہا کہ کئی سالوں سے جاری یمن جنگ کے باعث لاکھوں افراد زندہ رہنے کیلئے بین الااقوامی امداد اور برآمدات پر انحصار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اب امریکی فیصلے کے بعد ضروری اشیا کی عوام تک ترسیل بغیر کسی تاخیر کے ممکن ہوسکے گی، جنگ کی تباہ کاریوں کے علاوہ اس وقت یمن کو قحط کا بھی شدید خطرہ لاحق ہے اور ترجمان کے مطابق اس موڑ پر کمرشل برآمدات اور انسان دوستی کے تحت بیرون ممالک سے آنے والی امداد کو مناسب مقدار میں جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، ترجمان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی اقدام سے ان کوششوں میں مدد ملے گی جو اقوامِ متحدہ اس سیاسی عمل کی بحالی کیلئے کررہا ہے جس کا مقصد تمام گروہوں کو شامل کرکے یمن کے تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا ہے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 جنوری کو اپنا عہدہ صدارت چھوڑنے سے صرف ایک دن قبل ایران کے حمایت یافتہ حوثی قبائل کو غیر ملکی دہشت گرد قرار دیا تھا، ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا تھا کہ حوثی باغیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھوک و افلاس سے متاثرہ ملک یمن میں امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں اور یہ ملک بڑے پیمانے پر قحط میں مبتلا ہوسکتا ہے، حکام کے مطابق اس فیصلے سے صدر بائیڈن کی حوثی قبائل سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

Share.

About Author

Leave A Reply