کیا مریم نواز کو شہباز شریف کی وفاداری پر شک ہے،منصوبہ ہے کیا ؟

0

اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین کو دودھ میں سے نکال دیا وہ اب فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈلنے والی ہے ویسے پاکستانی سیاست سے مذہبی عناصر کو پاک کرنے کا وقت آگیا ہے ہمارے لئے مولانا عمران خان کافی ہیں، وہ کھل کر اسلام کی تبلغ کررہے ہیں۔۔۔

اسلام آباد/لاہور/کراچی (میزان نیوز) اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ن لیگ کے قائد نواز شریف کی بیٹی جنھیں شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے کی مجبوری نے ن لیگ کا نائب صدر کا عہدہ قبول کرنا پڑا اور وہ سیاسی میدان میں اپنے والد اور بھائیوں کیلئے بھرپور جنگ لڑرہی ہیں، ہفتے کو اپنے بیان میں اُنھوں نے کہا کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی کے وفادار ہیں وہ کہنا یہ چاہتی ہیں کہ اگر بھائی سے غداری کی تو پارٹی سے نکال دیئے جاؤ گے، جس طرح مولانا فضل الرحمٰن نے مفتی محمود کی جمعیت علمائے اسلام کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی سمجھتے ہوئے پارٹی میں باقی بچے چند بے داغ شخصیتوں میں سے چار سینئر ترین افراد کو یک جنبش قلم پارٹی سے نکال دیا، یہ الگ بات ہے کہ مولانا شیرانی کی قیادت میں نکالے گئے رہنماؤں نے فضل الرحمٰن کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے، اگر مریم نواز سمجھتی ہیں کہ وہ شہباز شریف کو پارٹی سے نکال سکیں گی تو یہ اُن کی بھول ہے، جن ہاتھوں نے نواز شریف کا بُت تراشہ تھا وہ ہاتھ اب بُت شکن بن گئے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ بُت شکن ہاتھ اب کبھی بُتوں کو تراشنے کا کام نہیں کریں، اُدھر کراچی میں تراشہ ہوا ایک بُت کمال کی باتیں کررہا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مردم شماری میں اہلیان کراچی سے ہونے والی زیادتیوں پر ایم کیو ایم نے حکومت چھوڑی تو ساری قیادت جیل چلی جائے گی، جناب جب آپ کرپشن کے الزامات کی تفتیش کے دوران جیل نہیں گئے تو وہ کیوں جائیں گے، اطلاعات تو ایسی ہیں کہ اب آپ بُت تراشنے والوں کے آپ چہیتے نہیں رہے ہیں اور اسکے باوجود آپ ڈیفنس کی عالی شان بنگلے میں بہترین زندگی گزار رہے ہیں، ایم کیوایم کی بات کیا کرنی وہ تو فاروق ستار اور حیدر عباس کو ساتھ لینے کیلئے تیار نہیں ہیں، عامر خان تو چلے ہوئے کارتوس کی حیژیت رکھتے ہیں ایم کیوایم حقیقی کو فرقہ واریت میں ملوث کرکے نابود کیا اور اب یہی حال ایم کیو ایم کا ہے، بات شروع ہوئی تھی مریم سے اور ختم بھی مریم نواز کی سیاست پر ہونی چاہیئے، وہ اور فضل الرحمٰن کی جال ڈھال اور گفتار دیکھیں تو نامی گرامی بلیک میلر معلوم دیتے ہیں، فضل الرحمٰن کرپشن کے الزامات کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہیں اور زبان ہمارے محلے کے قصائی کی استعمال کررہے ہیں، وہ بھی تین پاؤ گوشت کو قسم کھا کر ایک کیلو کہتا ہے، جس اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین کو دودھ میں سے نکال دیا وہ اب فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈلنے والی ہے، ویسے پاکستانی سیاست سے مذہبی عناصر کو پاک کرنے کا وقت آگیا ہے ہمارے لئے مولانا عمران خان کافی ہیں، وہ کھل کر اسلام کی تبلغ کررہے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply