مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختیاری کا خاتمہ انڈیا کو امریکی اعتماد حاصل تھا ؟

0

امریکی خصوصی مندوب ایلس ویلز کا بیان کہ امریکہ کو اس بارے میں علم نہیں تھا پاکستان کے شدید ردعمل کے بعد واشنگٹن حکومت کی کوشش کہ وہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے میں اٹھائے گئے متنازعہ بھارتی اقدام سے خود کو الگ کرلے۔۔۔

اسلام آباد/ نئی دہلی (میزان نیوز) جنوبی ایشیا کیلئے امریکی نگران نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کی نیم خود مختیار حیثیت ختم کرنے سے قبل واشنگٹن حکومت کو اعتماد میں لیا تھا، دوسری طرف بھارتی میڈیا نے ملکی وزیر خارجہ جے شنکر کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ یکم اگست کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا، بھارتی میڈیا میں انڈین حکام کے حوالوں سے ایسے دعوے بھی کیے گئے کہ فروری میں پلوامہ حملے کے بعد بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو فون کرکے کہا تھا کہ نئی دہلی حکومت کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور غیر ملکی میڈیا کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ آرٹیکل 370 کو ختم کررہی ہے، امریکی خصوصی مندوب ایلس ویلز کے اس تازہ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے شدید ردعمل کے بعد واشنگٹن حکومت کی کوشش ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے میں اٹھائے گئے متنازعہ بھارتی اقدام سے خود کو الگ کرلے، بھارتی میڈیا رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تناظر میں امریکی اور بھارتی حکام کے مابین متعدد مرتبہ گفتگو ہوئی، سینیئر امریکی سفارتکار ایلس ویلز نے بدھ سات اگست کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ بھارت نے جموں و کشمیر کی نیم خود مختیار حیثیت ختم کرنے سے قبل امریکا سے اس منصوبے کو شیئر نہیں کیا تھا، ویلز اس وقت پاکستان کا دورہ کررہی ہیں، جس دوران وہ پاکستانی حکام کے ساتھ کشمیر کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو بھی کریں گی، یو ایس بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کیے گئے اس ٹوئیٹ کے مطابق میڈیا میں آنے والی خبروں کے برعکس، بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حییثت کو ختم کرنے سے قبل امریکی حکومت سے نہ تو مشاورت کی اور نہ ہی اس کے بارے میں اطلاع دی، امریکی حکام نے اس ٹوئٹ کو ایلس ویلز کے حوالے سے جاری کیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply