کشمیریوں کی شناخت خطرےمیں ہے بھارتی الزام درست نہیں ہیں

0

پاکستان کی جانب سے کسی عسکری آپشن کے استعمال کے امکان کو رد کر دیا یے پاکستان کے پاس تمام سفارتی اور سیاسی آپشن موجود ہیں اور پاکستان کو انڈیا کی جانب سے بڑھائے گئے اس بحران کو مزید بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔

راولپنڈی/ واشنگٹن (میزان نیوز) پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی چنار کور کے کمانڈر کے بیان کو شوریدہ اور جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا، واضح رہے کہ چنار کور کے کمانڈر کے لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں کا کہنا تھا کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والے ہر شخص کا خیال رکھے گا اور انہوں نے پاکستانی فوج اور حکومت پر مقبوضہ وادی میں امن و امن کی صورتحال خراب کرنے کا الزام دہرایا تھا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے ان کے بیان کو بھارتی مہم جوئی کا حصہ اور مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال اور بھارتی مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک اور سازش قرار دیا، دوسری طرف اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے پاکستان کی جانب سے کسی عسکری آپشن کے استعمال کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس تمام سفارتی اور سیاسی آپشن موجود ہیں اور پاکستان کو انڈیا کی جانب سے بڑھائے گئے اس بحران کو مزید بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اُنھوں نے کہا کہ ہمارے پاس سارے سیاسی اور سفارتی آپشن میز پر موجود ہیں، یہ پورا بحران اس ریاست کے لوگوں کے بارے میں ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برادری قانون، انصاف اور اصولوں کیلئے کھڑی ہو تاکہ اس ریاست کے لوگوں کی مشکلات حل کی جا سکیں، ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو 70 سال سے آزادی سے محروم رکھا گیا ہے اور اب انھیں ان کی شناخت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے، انھوں نے کہا کہ حالیہ تبدیلیاں انڈیا کی حکومت کو جموں و کشمیر کی آبادی میں تبدیلی لانے میں مدد دیں گی اس لئے اس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت خطرے میں ہے، انھوں نے کہا کہ کشمیر ٹھوس انداز میں سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر موجود ہے، اور اس حوالے سے اس بین الاقوامی ادارے کی کئی قراردادیں موجود ہیں، کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہ مسئلہ بحران میں اس وقت تبدیل ہوا جب انڈیا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے غیر قانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر پر تسلط جمایا، ملیحہ لودھی نے کہا کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم کو یہ اقدام کرنے سے قبل کشمیر کو مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کسی بھی کشمیری نے اس اقدام کی حمایت نہیں کرنی تھی، انھوں نے کہا کہ کشمیر ٹھوس انداز میں سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر موجود ہے، اور اس حوالے سے اس بین الاقوامی ادارے کی کئی قراردادیں موجود ہیں، کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہ مسئلہ بحران میں اس وقت تبدیل ہوا جب انڈیا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے غیر قانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر پر تسلط جمایا۔

Share.

About Author

Leave A Reply