کشمیری زیادتیوں کا شکار ہیں، انڈیا کے اتحادی، نئی دہلی پر دباؤ ڈالیں

0

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو ضم کرنے کے بھارت کے غیرقانونی اقدام کے خلاف پاکستان کا رد عمل بڑی حد تک نئی دہلی کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش تک محدود ہے۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے ہندوستان کے بین الاقوامی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسے ریاست کشمیر کی بحالی، نظر بند سیاستدانوں کو آزاد کرنے اور سکیورٹی فورسز کی عام شہریوں سے ہونے والی زیادتیوں کے خاتمے کیلئے اس پر دباؤ ڈالے، عالمی تھنک ٹینک آئی سی جی نے اپنی نئی رپورٹ میں بھارت کو مشورہ دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی طبقے سے دوبارہ بات چیت کرے اور مقبوضہ وادی میں سیکیورٹی فورسز کی بدانتظامیوں کو ختم کریں اور نئی دہلی کے بین الاقوامی شراکت داروں اور اتحادیوں پر زور دیا کہ انہیں اس کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیئے، جموں وکشمیر داؤ پر لگتا جا رہا ہے کے عنوان سے جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ہندوستان کے حالیہ اقدامات نے خطے کی دو جوہری طاقتوں کے مابین فوجی اشتعال انگیزی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے، آئی سی جی نے ہندوستان اور پاکستان دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جارحانہ طرز عمل سے باز رہیں اور 2003 میں باہمی رضامندی سے ہونے والی سیز فائر کا احترام کریں، آئی سی جی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے قیام کیلئے 07-2003 کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے جس میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

اسی عرصے کے دوران عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان اور پاکستان نے باہمی بات چیت اور اعتماد پیدا کرنے کے متعدد اقدامات کا انتخاب کیا جس میں ایل او سی کا افتتاح بھی شامل تھا تاکہ دونوں ممالک میں کشمیری آزادانہ طور پر سفر اور تجارت کرسکیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کوششوں میں نئی دہلی اور کشمیریوں کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کے مابین بات چیت کی راہیں کھل گئیں، جس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس بھی شامل ہے جسے مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ نمائندگی کی حامل سیاسی قوت سمجھا جاتا ہے، اس میں نوٹ کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق کی بنیاد پر سیاسی منظرنامے کے دو مختلف کونوں سے تعلق رکھنے والے بھارت کے یکے بعد دیگرے دو وزرائے اعظم نے بھی سیاسی ذرائع سے کشمیریوں کی شکایات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ مئی میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد مودی حکومت نے دوطرفہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے سے متعلق پاکستان کی پیش کش کو مسترد کردیا اور گزشتہ سال 5 اگست کے بعد جب نئی دہلی نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں کو ضم کردیا تو پاکستان اس پیشکش سے دستبردار ہو گیا تھا، آئی سی جی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو ضم کرنے کے بھارت کے غیرقانونی اقدام کے خلاف پاکستان کا رد عمل بڑی حد تک نئی دہلی کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی رائے کو ہموار کرنے کی کوشش تک محدود ہے لیکن گزشتہ سال سے بھارت نے مقبوضہ وادی میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں جس نے صرف کشمیریوں کی بیگانگی کو بڑھاوا دیا اور پاکستان کے ساتھ تناؤ بڑھایا ہے، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس سے مقامی سطح پر عسکریت پسندی میں بھی اضافہ ہوا جو ضروری نہیں کہ سرحد پار سے آنے والے احکامات پر انحصار کرے۔

Share.

About Author

Leave A Reply