کراچی والوں کو کم شمار کیا مردم شماری کے نتائج منظور نہیں،ایم کیوایم

0

سندھ کے شہری علاقے 1947ء میں ہندو اکثریتی شہر ہوا کرتے تھے اور ایک معاہدے کے تحت مہاجر یہاں آئے اور ہندو یہاں سے گئے، ان شہروں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور مردم شماری میں ان کی آبادی کو بہت کم کرکے دکھایا گیا ہے۔۔۔

کراچی (میزان نیوز) متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رکھا گیا، ان کو کم گنا گیا اور ان کی نمائندگی کو صرف 25 فیصد کردیا گیا مگر پھر بھی یہ شہر پاکستان کو 65 فیصد اور سندھ کو 95 فیصد ریونیو دیتا ہے، کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر تمام تر زیادتیوں، ناانصافیوں، نظر انداز کیے جانے اور بغیر کسی وجہ کے بڑے آپریشن کیے جانے کے باوجود پاکستان کو ریونیو کما کر دیتا ہے، مردم شماری کو منظور کرنے کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئی قومی اتفاق رائے موجود نہیں ہے، بات سنی جاتی ہے مگر عمل درآمد نہیں ہوتا، ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومت سے سوال ہے کہ ایسا کوئی اتفاق رائے ہوگیا ہے تو کراچی کے عوام کو ضرور بتائیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقے 1947ء میں ہندو اکثریتی شہر ہوا کرتے تھے اور ایک معاہدے کے تحت مہاجر یہاں آئے اور ہندو یہاں سے گئے، ان شہروں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور مردم شماری میں ان کی آبادی کو بہت کم کرکے دکھایا گیا ہے، ایم کیو ایم کنوینر کا کہنا تھا کہ ‘یہ الزام ثابت ہوچکا ہے کہ کسی نہ کسی وقت پر حکومتوں نے جان بوجھ کر ان آبادیوں کو کم دکھایا، بھٹو صاحب کے دور میں آبادی کو کم دکھانے پر کمشنر کو سزا بھی دی جاچکی ہے، ایم کیو ایم کنوینر کا کہنا تھا کہ ‘یہ الزام ثابت ہوچکا ہے کہ کسی نہ کسی وقت پر حکومتوں نے جان بوجھ کر ان آبادیوں کو کم دکھایا، بھٹو صاحب کے دور میں آبادی کو کم دکھانے پر کمشنر کو سزا بھی دی جاچکی ہے، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں شامل ہونے کے لیے سب سے پہلا نقطہ مردم شماری کا رکھا تھا، یہ سیاسی مطالبہ نہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply