کراچی حصص بازار پر حملے میں انڈین را ملوث ہے، ڈائریکٹر جنرل رینجرز

0

کراچی پولیس کے سربراہ اے آئی جی غلام نبی میمن کے مطابق ملکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کر دی گئی تھی کہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس لئے سکیورٹی ادارے پہلے سے آج کے حملے کیلئے تیار تھے۔۔۔

کراچی (میزان نیوز) ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے بعد کہا ہے یہ دہشت گرد حملہ دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا جس میں ان کے مطابق انڈیا کی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے، کراچی پولیس کے سربراہ اے آئی جی غلام نبی میمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دشمن غیر ملکی ایجنسیوں بالخصوص را کی اس حوالے سے بے چینی کا ہمیں ادراک ہے، میجر جنرل بخاری نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ آپریشن کی وجہ سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کا دائرہ سکڑ گیا ہے، انھوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے پوری طرح ادراک ہے کہ بچی کھچے سلیپر سیلز، مددگاروں اور سہولت کاروں کو جمع کیا جائے جن میں ایم کیو ایم لندن، بی ایل اے اور بلوچستان میں دیگر گمراہ لوگوں کو جمع کرکے صوبے کا امن خراب کیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ آج کے واقعات کا تعلق 10 جون کو سندھ میں رینجرز پر ہونے والے حملوں سے جوڑنا غلط نہیں ہوگا، ایک سوال کے جواب میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ وہ آج کے واقعے کو انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں قرار دیں گے، اے آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے اس موقع پر کہا کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے سے اب تک کے دوران دہشت گردوں نے کئی مرتبہ حملوں کی کوششیں کیں اور ان میں سے لوگ پکڑے بھی گئے، غلام نبی میمن نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کیا جا سکتا ہے، اس لئے سکیورٹی ادارے پہلے سے آج کے حملے کیلئے تیار تھے، ڈی جی رینجرز نے کہا کہ چاروں دہشت گرد اس عزم کے ساتھ آئے تھے کہ سٹاک ایکس چینج کے اندر نہ صرف لوگوں کو نشانہ بنانے اور یرغمال بنانے کیلئے بھی آئے تھے، میجر جنرل بخاری نے کہا کہ یہ بات ان دہشت گردوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان کی بنا پر کہی جا سکتی ہے جن میں کلاشنکوف، گرینیڈ اور کھانے پینے کا سامان شامل ہے، ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پاکستانی معیشت کی علامت ہے اور یہاں حملہ کرنے کا مقصد سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنا اور پاکستان کا تاثر دنیا بھر میں غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنا شامل تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply