چین کی بنائی کورونا ویکسین رواں سال دسمبر میں عام لوگوں کو میّسر ہوگی

0

برطانیہ میں کررونا وائرس کی ویکسین کے آخری مرحلے کے تجربات عارضی طور پر معطل کردیئے گئے تھے جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جن رضا کاروں کو آزمائشی طور پر کورونا ویکسین دی جارہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہوگیا تھا۔۔۔

بیجنگ (میزان نیوز) چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے حکام نے کہا ہے کہ کررونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ملک میں بنائی جانے والی ویکسین اس سال کے آخر میں عوامی سطح پر ملنا شروع ہوجائے گی، چین میں کررونا وائرس کی چار ویکسینز کے انسانوں پر تجربات آخری مراحل میں ہیں، ان میں سے تین ویکسینز ایسی ہیں جو جولائی میں خصوصی طبی رضاکاروں کیلئے ہنگامی بنیاد پر شروع کیے گئے پروگرام کے تحت دی گئی ہیں، سی ڈی سی کی سربراہ اور بائیو سیفٹی کی ماہر گویژن وو کا کہنا تھا کہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائل حوصلہ افزا رہے ہیں اور نومبر یا دسمبر میں عوامی استعمال کیلئے ان کی فراہمی شروع ہوسکتی ہے، گویژن وو کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی اپریل میں ویکسین استعمال کی تھی اور اس کے کسی قسم کے منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے تھے، چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی چائنا نیشنل فارماسوٹیکل گروپ (سائنوفارم) اور امریکہ میں رجسٹرڈ چینی کمپنی سینووک بائیوٹیک نیشنل ایمرجنسی پروگرام کے تحت مشترکہ طور پر تین ویکسینز کی تیاری پر کام کررہی ہیں، چوتھی ویکسین کین سینو بائیولوجکس نے تیار کی ہے جسے جون میں چین کے فوجیوں پر استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

دوا ساز کمپنی سائنو فارم نے جولائی میں کہا تھا کہ تیسرے مرحلے کے تجربات مکمل ہونے کے بعد کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین اس سال کے آخر تک دستیاب ہوجائے گی، خیال رہے کہ کررونا وائرس سے دنیا بھر میں 9 لاکھ 25 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں، اسی وجہ سے ویکسین بنانے والے بین الاقوامی اداروں میں عالمی وبا کی ویکیسن جلد از جلد بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، گزشتہ ہفتے برطانیہ میں کررونا وائرس کی ویکسین کے آخری مرحلے کے تجربات عارضی طور پر معطل کردیئے گئے تھے جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جن رضا کاروں کو آزمائشی طور پر ویکسین دی جارہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہوگیا تھا، آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایک دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا مشترکہ طور پر کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آسٹرا زینیکا کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز میں رضاکارانہ طور وقفہ کیا گیا ہے تاکہ ٹرائل کے دوران سامنے آنے والی بیماری کی چھان بین کی جا سکے اور ویکسین کی آزمائش کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے​۔

Share.

About Author

Leave A Reply