چین کی طاقت سےامریکا آگاہ نہیں تائیوان، ہمارا لازمی حصّہ ہے،شی

0

صدر شی جن پنگ کی تقریر میں تائیوان کا ذکر اس لئے بھی اہم ہے کہ رواں ہفتے امریکا نے تائیوان کیلئے نئے ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق تائیوان کو ایک بلین ڈالر مالیت کے جدید میزائل فراہم کیے جائیں گے۔۔۔

بیجنگ (میزان نیوز) چین میں سنہ 1950ء سے 1953ء تک لڑی جانے والی جزیرہ نما کوریا کی جنگ میں فتح کی سترہویں سالگرہ منائی گئی، اس موقع پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں چینی صدر شی جن پنگ نے ملکی عسکری قوت سے متعلق ایک طویل تقریر کی، انھوں نے کہا نئے چین کی طاقت سے امریکا آگاہ نہیں ہے، اس تقریر میں حب الوطنی کے روایتی احساسات اور جذبات کو بھی سمویا گیا، صدر شی نے تائیوان کے اسٹیٹس پر سخت جملوں کا استعمال کیا اور کہا تائیوان کو چین اپنی سرزمین کا علیحدہ مگر لازمی حصہ قرار دیتا ہے، صدر شی کی تقریر میں تائیوان کا ذکر اس لئے بھی اہم ہے کہ رواں ہفتے کے دوران اکیس اکتوبر کو امریکا نے تائیوان کلئے نئے ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق تائیوان کو ایک بلین ڈالر مالیت کے جدید میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ اس اعلان سے امریکا اور چین میں مزید کشیدگی و تناؤ میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے، جمعے کو منعقد ہونے والی تقریب میں صدر شی نے امریکا کا نام لئے بغیر کہا کہ آج بھی یک طرفیت اور اتحادیوں کے بغیر خارجہ تعلقات استوار کرنے، ملکی صنعتی پیداوار کو بیرونی سرمائے سے محفوظ رکھنے اور اپنی انتہائی برتری کے زعم میں مبتلا ہونا دیکھا جارہا ہے، تقریر کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چینی عوام مسائل پیدا کرنے کے دلدادہ نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مشکل وقت کا سامنا کرنے سے گبھراتے ہیں، انہوں یہ بھی کہا کہ چینی لوگ اور حکومت بیکار نہیں رہتی اور یہ ہمہ وقت اپنی جغرافیائی خود مختاری پر نگاہ رکھے ہوئے ہے تاکہ کوئی اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرئے۔

Share.

About Author

Leave A Reply