چین کیساتھ کشیدگی،روس اور بھارت کا سالانہ اجلاس پہلی بارمنسوخ ہوا

0

راہول گاندھی نے اس حوالے سے میڈیا کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا، روس بھارت کا اہم دوست ہے، ہمارے روایتی حلیف کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا تنگ نظری ہے جو مستقبل کے ہمارے رشتوں کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔۔۔

نئی دہلی/ماسکو (میزان نیوز) بھارت اور چین کے کشیدہ حالات کے دوران روس اور بھارت کا سالانہ اجلاس پہلی بار منسوخ ہوا ہے، کانگریس کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ روابط خراب ہونے سے بھارت کو مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حال ہی میں روس نے کواڈ گروپ میں بھارت کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد پہلی بار بھارت اور روس کے درمیان اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کے اعتبار سے اہمیت کی حامل سالانہ میٹنگ منسوخ ہوگئی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات کی بہتری کیلئے یہ سالانہ میٹنگ گزشتہ 20 برسوں سے باقاعدگی سے منعقد ہوتی آرہی تھی، تاہم بھارتی حکومت نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا اور کہا ہے کہ کسی اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا، نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ میٹنگ موجودہ صورت حال کے پیش نظر منسوخ کرنا پڑی، بھارتی وزارت خارجہ نے یہ وضاحتی بیان حزب اختلاف کے سرکردہ رہنما راہول گاندھی کے اس بیان کے بعد جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ روایتی حلیف روس جیسے ملک کے ساتھ رشتے خراب کرنے کے خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں، راہول گاندھی نے اس حوالے سے میڈیا کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا، روس بھارت کا اہم دوست ہے، ہمارے روایتی حلیف کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا تنگ نظری ہے جو مستقبل کے ہمارے رشتوں کیلئے خطرناک ثابت ہو گا، بھارتی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس برس کووڈ 19 کی وبا جب عروج پر تھی تب بھی کئی بار ملاقاتوں کے لیے بھارتی وفد روس کا دورہ کر کے مختلف اجلاسوں میں شرکت کر چکا ہے تو پھر اب اتنی اہم میٹنگ کو منسوخ کرنے کی ضرورت کیا تھی، جب سے بھارت نے امریکا، آسٹریلیا اور جاپان کے گروپ ‘کواڈ’ میں شمولیت اختیار کی ہے تب سے روس اور بھارت کے رشتوں میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply