زرداری اور شریفوں، ترین اور چوہدریوں نے چینی بحران سے مال بنایا

0

چینی کے مل مالکان نے عوام کے ساتھ زیادتی کی اور انھیں لوٹا ہے ملز مالکان نے جس وقت 140 روپے سے کم قیمت پر گنا خریدا اس وقت سپورٹ پرائز 190 روپے تھی جب وفاقی حکومت نے کمیشن بنایا تو گنے کی مقررہ قیمت پر خریداری کی گئی۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کی وفاقی کابینہ نے جمعرات کو چینی بحران سے متعلق فارنزک رپورٹ عام کردی ہے، اس رپورٹ میں پاکستان کے نو بڑے گروپس کی ملز کی آڈٹ کی تفصیلات شامل ہیں، کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیت جہانگیر ترین، سابق حکمران شریف خاندان، گجرات کے چوہدری برادران، وفاقی وزیر اسد عمر، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے فراڈ اور ہیرا پھیری کی ہے، انکوائری کمیشن نے لکھا ہے کہ سندھ کی جانب سے صرف اومنی گروپ کو فائدہ پہنچانے کیلئے سبسڈی دی گئی، اس میں 9.3 روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے اور سندھ میں سب سے زیادہ شیئر اومنی گروپ کا تھا، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ سے واضح ہو جاتا ہے کہ شوگر ملز مالکان نے عام آدمی اور کسان کے ساتھ فراڈ کیا ہے اور انھیں لوٹا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم یہ بات کرتے تھے کہ جو کاروباری ہوتے ہیں وہ حکومت میں نہیں ہوسکتے، یہ مفاد کا تضاد ہوتا ہے، اس حوالے سے آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے، شہزاد اکبر نے بتایا کہ کمیشن رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو ملز پاکستان میں چینی کی پیداوار کا سب سے بڑا گروپ ہے اور یہ کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت بڑھائی ہے، اس سے متعلق شہزاد اکبر نے کہا کہ پیداواری صلاحیت کے اعتبار سے جے ڈی ڈبلیو نے قانون کی خلاف ورزی میں تقریباً آٹھ نو ملز تک کا اضافہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں شوگر کی پروکیورمنٹ سے لے کر شوگر برآمدات تک سب چیزوں کا احاطہ کیا گیا ہے، ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جس قسم کے جھوٹے الزامات مجھ پر لگائے گئے ہیں ان کا سن کر دھچکا لگا، میں نے ہمیشہ صاف شفاف کاروبار کیا ہے، پورا ملک جانتا ہے کہ میں نے ہمیشہ کاشتکار کو پوری قیمت دی ہے، میں دو کھاتے نہیں رکھتا، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ہر الزام کا جواب دیں گے، مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ رپورٹ پڑھنے کے بعد ن لیگ ردعمل دے گی، مسلم لیگ(ق) کے رہنما مونس الہٰی نے کہا ہے کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ کسی شوگر مل کے بورڈ یا مینیجمنٹ میں شامل نہیں ہوں، کمیشن کی قانون سازی کیلئے سفارشات کی حمایت کرتا ہوں، رپورٹ میں جن دیگر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ابھی ان کی جانب سے ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، شہزاد اکبر کے مطابق کمیشن رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ گنے والے کسان کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا، انھیں لوٹا گیا، شوگر ملز نے انتہائی کم داموں میں کاشتکار کو قیمت ادا کی ہے، ملز مالکان نے جس وقت 140 روپے سے کم قیمت پر گنا خریدا اس وقت سپورٹ پرائز 190 روپے بنتی تھی، انھوں ںے بتایا کہ تحقیقات کے بعد اس گنے کی قیمت میں اس وقت اضافہ کیا گیا جب حکومت نے کمشن بنانے کا اعلان کیا، شہزاد اکبر کے مطابق مل مالکان نے عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے اور انھیں لوٹا ہے، یاد رہے کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات کو وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا اور رواں سال کے اوائل میں انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت انکوائری کمیشن تشکیل دیا جس کے سربراہ واجد ضیا تھے۔

Share.

About Author

Leave A Reply