پیپلزپارٹی نے ریپ مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت ک

0

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کرکے سانحہ لاہور موٹروے پر بحث کی گئی پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا سی سی پی او کو شاباشی کی تھپکی دے کر عورتوں کو پیغام دیا گیا کہ نئے پاکستان میں آپ محفوظ نہیں۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں بھی سانحہ موٹروے کی گونج سنائی دی، پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ واقعے سے توجہ ہٹانے کیلئے پھانسی کی سزا کی بحث چھیڑی گئی، اُنھوں نے اور سینیٹر رضا ربانی نے ریپ مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا جنرل ضیا الحق نے بھی سرعام پھانسی دی مگر ریپ واقعات نہیں رکے، یاد رہے کہ سانحہ موٹروے پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ زیادتی کیس میں ملوث مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، کابینہ اراکین نے بھی سنگین سزاؤں کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کردیا، دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے بعد معمول کی کارروائی معطل کرکے سانحہ لاہور موٹروے پر بحث کی گئی، پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا سی سی پی او کو شاباشی کی تھپکی دے کر عورتوں کو پیغام دیا گیا کہ نئے پاکستان میں آپ محفوظ نہیں، عورت نے 130 پر کال تو ایک گھنٹے تک پولیس کیوں نہ آئی؟ انہوں نے کہا واقعے سے توجہ ہٹانے کیلئے پھانسی کی سزاوں کی بحث چھیڑ دی گئی ہے، پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ماں تو نہ بن سکی، ڈائن بن گئی ہے، ظلم کے خلاف بات کرنے والوں کو غائب کر دیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ ہم سرعام پھانسی دیں گے کیا آمر ضیاالحق نے سرعام پھانسی دی تو اس سے ریپ اور جرائم ختم ہوگئے تھے، پی ٹی آئی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا زیادتی کے واقعات کو روکنے کیلئے قوانین میں ترامیم وقت کی ضرورت ہے، جنسی درندوں کی پشت پناہی کرنے والوں کو بھی مثالی سزا دینی ہوگی۔

Share.

About Author

Leave A Reply