فرانسیسی سفیر کی پاکستانی دفتر خارجہ طلبی، مصنوعات کا بائیکاٹ جاری

0

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے اسلام مخالف بیان پر فرانسیسی سفیر کو پاکستانی دفترخارجہ طلب کیا گیا فرانسیسی مصنوعات کے خلاف کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔۔۔

پیرس/اسلام آباد (میزان نیوز) یورپی ملک فرانس کی حکومت نے مسلم ممالک سے اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی اپیل کردی، دوسری طرف پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرلیا، جہاں مذکورہ معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو اسپیشل سیکریٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا، انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی سفیر سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ فرانسیسی صدر کے بیان پر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا، اُدھر کویت سمیت متعدد عرب ممالک کی کاروباری تنظیموں نے چند دن قبل ہی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور یورپی ملک کی ہر طرح کی مصنوعات کو دکانوں سے ہٹائی جارہی تھی، خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانس کے ایک استاد کی جانب سے کچھ دن قبل کلاس کے دوران بچوں کو گستاخانہ خاکے دکھانے کی خبر سامنے آنے کے بعد عرب ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، فرانسیسی مصنوعات کے خلاف سب سے پہلے کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کویت بھر سے فرانسیسی مصنوعات کو اسٹورز سے ہٹایا جا رہا تھا، مذکورہ بائیکاٹ اس وقت شروع کیا گیا جب فرانسسی صدر ایمانوئیل میکرون نے 23 اکتوبر کو متنازع بیان دیا اور کہا تھا کہ فرانس گستاخانہ خاکوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، فرانسیسی صدر نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب فرانس میں 17 اکتوبر کو ایک حملے میں اس استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا، جس نے اسکول میں بچوں کو گستاخانہ خاکے دکھائے تھے، فرانسیسی صدر نے مذکورہ شخص کی آخری رسومات میں شرکت کرکے اسے فرانس کا ہیرو بھی قرار دیا تھا، جس پر پوری دنیا میں فرانسیسی صدر کے خلاف احتجاج شروع ہوا، فرانسیسی صدر کے متنازع بیان پر حکومت پاکستان اور حکومت ترکی نے سخت رد عمل دیا تھا اور ایمانوئیل میکرون کو ’دماغی معائنہ‘ کرانے کے مشورے دیے گئے تھے۔

Share.

About Author

Leave A Reply