پاکستان: چھ ماہ روپےکےمقابلےمیں ڈالر کی قدرمیں نوفیصداضافہ

0

رواں سال پاکستان کے پاس زرمبادلہ کےذخائر سترہ ارب ڈالر سے زائد تھے، قرضوں کا حجم آٹھ ٹریلین ہوگیا ہے

کراچی (میزان نیوز) رواں مالی سال 2012ء 2013ء کے ابتدائی چھ ماہ میں روپے کے مقابلے dollarمیں ڈالر کی قدر میں نو فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،  رواں سال کے آغاز پر ایک ڈالر انناسی روپے پچاسی پیسے میں دستیاب تھا اور اس وقت پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر کا حجم سترہ ارب ڈالر سے زائد تھے، سال دوہزار بارہ سے آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی کا بھی آغاز ہوا جس کے باعث زرمبادلہ ذخائر کیساتھ ساتھ روپے کی قدر بھی دباوٴ کا شکار رہی، جنوری کے آغاز میں روپے کی قیمت انناسی روپے سے زائد تھی جو مئی کے آخری عشرے میں نوے روپے ہو گئی، جولائی کے اختتام پر ڈالر کی قدر مزید پانچ روپے اضافے کے ساتھ پچانوے روپے ہوگئی جس میں ستمبر کے آغاز میں دو روپے کمی ہو ئی اور قیمت تیرانوے روپے ہوگئی، روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ یہاں نہیں رکا اور نومبر کے آغاز پر چھیانونے اور دسمبر کے آغاز پر ڈالر ستانوے پیسے زائد کی سطح پر ٹریڈ ہورہا تھا، معاشی ماہرین کے مطابق سال دو ہزار بارہ کے باقی ماندہ دنوں میں آئی ایم ایف کی کوئی ادائیگی نہیں اور سال کے اختتام کی وجہ سے کارباری سرمیاں محدود رہتی ہیں جس کے باعث ڈالر کی قیت سو روپے ہوجانے کی اُمید نہیں ہے، گزشتہ پانچ سال میں ڈالر اٹھاون فیصد مہنگا ہوا ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی چھ ماہ میں مقامی قرضوں کی ادائیگی کا حجم محصولات کاساٹھ فیصد ہوگیا ہے، وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مسلسل قرض لئے جانے کے باعث اس حجم میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں حکومت نے دو سو انتھر ارب روپے قرضوں کی ادایئگی کی مد میں صرف کئے، رواں مالی سال کی پہلے سہ ماہی میں قرضوں کی ادائیگی کا حجم محصولات کا ساٹھ فی صد جو اخراجات کا اٹھائیس فیصد ہو گے ہیں، ستمبر دوہزار بارہ کے اختتام پر مقامی حکومتی قرضوں کا حجم آٹھ اعشاریہ ایک دو ٹریلین ہوگیا ہے جو کہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے

Share.

About Author

Leave A Reply