پاکستان نےاسرائیل کی1967ء کی سرحدوں کو تسلیم کرنیکا اعلان کردیا

0

پاکستانی ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے جموں و کشمیر کی جدوجہد ایک مسلسل عمل ہے یہ ایونٹ نہیں یہ عمل جاری ہے اور یہ آگے بڑھے گا۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کردیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں، ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اس طرح کی خبریں بے بنیاد پروپیگنڈا کا حصہ ہیں، ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے، ان کے یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اسرائیلی اخبار کے تفصیلی آرٹیکل کے بعد سامنے آئے جس میں پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے بارے میں بات کی گئی تھی، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ان کے وزیراعظم کے حالیہ بیان پر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی 1967ء والی سرحد کو ہی تسلیم کرتے ہیں، ڈاکٹر محمد فیصل ہفتہ وار بریفنگ میں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس کو مسترد کردیا، خیال رہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دوروں کے بعد اس طرح کی خبریں زیرگردش تھیں کہ انہوں نے حکومت کو کہا تھا کہ کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے، تاہم اس حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں ان رپورٹس کو قیاس آرائیاں قرار دیا اور کہا کہ دونوں حکام نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کیلئے حمایت کی یقین دہانی کروائی، واضح رہے کہ سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی، ان ملاقاتوں میں بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال، ان اہم معاملات میں سے ایک تھا، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن 40 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیئے، ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا، پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد ایک عمل ہے، یہ کوئی ایونٹ نہیں، یہ عمل جاری ہے اور یہ آگے بڑھے گا، اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پس پردہ کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply