پاکستان میں کوئی اداکار ایسا نہیں، جسکا معاوضہ پھنسا نہ ہو، نعمان اعجاز

0

اگر پروڈیوسر نے ساڑھے چار سے پانچ کروڑ روپے کسی سے لینے ہوں وہ براڈ کاسٹر کے آگے ہاتھ جوڑے بیٹھا ہوتا ہے کہ سر میرے پیسے دے دیں اور وہ اس کے آگے 5 سے 10 لاکھ روپے ہڈی کی طرح ڈال دیتا ہے تاکہ اس کا منہ بند ہو جائے۔۔۔

کراچی (میزان نیوز) پاکستان کے نامور اداکار نعمان اعجاز نے مقامی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کے طریقہ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران آرٹسٹس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر کام کروایا جارہا ہے، اپنے ایک انٹرویو میں نعمان اعجاز نے انڈسٹری میں معاوضوں کی عدم ادائیگیوں اور اس ضمن میں اداکاروں اور پروڈیوسرز کو پیش آنے والی مشکلات اور براڈ کاسٹرز کے رویئے کے حوالے سے بات کی، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں معاوضوں کی عدم ادائیگیوں سے متعلق سوال پر نعمان اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں کوئی اداکار ایسا نہیں، کوئی پروڈیوسر ایسا نہیں جس کا معاوضہ نہ پھنسا ہو، نعمان اعجاز نے کہا کہ میرے معاوضوں کی ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں تو میں کسی اور کی کیا بات کروں گا، انہوں نے مزید کہا کہ ایک چینل نے مجھے ساڑھے 4 سے 5 کروڑ دینا ہے، دوسرے نے ڈھائی کروڑ روپے دینے ہیں، اُنھوں نے کہا کہ کوئی قانون ان کو تحفظ نہیں دیتا، کوئی قانون ان کے پیچھے کھڑا نہیں ہوتا کوئی آواز نہیں اٹھاتا، اداکار کا مزید کہنا تھا کہ یہ سچ ہے اور یہ سب بڑے چینلز ہیں جو ادائیگیاں نہیں کررہے، نعمان اعجاز نے کہا کہ ایک چینل نے ساڑھے 4 سے 5 سال سے معاوضہ نہیں دیا، ایک نے 3 سال ہوگئے معاوضہ دینا ہے اور جب بھی معاوضہ لینے جاؤ تو وہ آپ کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں، اداکار نعمان اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ کیسا ملک، کتنا مزیدار ملک ہے کہ جس آدمی نے، پروڈیوسر نے ساڑھے 4 سے 5 کروڑ روپے کسی سے لینے ہوں وہ براڈکاسٹر کے آگے ہاتھ جوڑے بیٹھا ہوتا ہے کہ سر میرے پیسے دے دیں اور وہ اس کے آگے 5 سے 10 لاکھ روپے ہڈی کی طرح ڈال دیتا ہے تاکہ اس کا منہ بند ہوجائے، اداکار نے مزید کہا کہ یہ سب ہورہا ہے جو پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مکمل غنڈہ گردی ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے، کوئی لحاظ نہیں کیا جارہا۔

Share.

About Author

Leave A Reply