پادریوں کی بچوں سےجنسی زیادتی روک تھام کیلئے4 روزہ روم کانفرنس

0

کانفرنس کو پاپائے روم کی قيادت کیلئے ايک امتحان کے طور پر بھی ديکھا جا رہا ہے، پادريوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کے مسئلے سے نمٹنے ميں ان کی حکمت عملی پر کئی افراد نگاہيں لگائے بيٹھے ہيں ۔۔۔۔۔

روم (میزان نیوز) کيتھولک کليسا سے منسلک پادريوں کے ہاتھوں بچوں کا جنسی استحصال کے موضوع پر ویٹیکن سٹی میں ايک چار روزہ کانفرنس ہو رہی ہے، جس ميں اس مسئلے کے حل سميت کليسا ميں اصلاحات پر توجہ مرکوز رہے گی، اس کانفرنس ميں شرکت کیلئے 190 گرجا گھروں کے سربراہان سميت، 114 بشپس اور عورتوں کے مذہبی گروپوں کے دس نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی، کانفرنس ميں زير بحث مسئلے کا تين زاويوں سے جائزہ ليا جائے گا، جن ميں ذمہ داری، احتساب اور شفافيت شامل ہيں، پہلے تين ايام کے دوران ان ميں سے ايک ايک موضوع پر بات چيت متوقع ہے جبکہ چوتھے اور آخری دن، پاپائے روم ايک خصوصی دعائيہ تقريب کی قيادت کريں گے، اس اجلاس کے اہم مقاصد ميں پادريوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کے بارے ميں آگہی پھيلانا شامل ہے، علاوہ ازيں نمائندوں کو ايسے واقعات کی شناخت اور ان سے نمٹنے کیلئے تربيت فراہم کی جائے گی، ايشيا اور افريقہ ميں اکثريتی گرجا گھر يہ ماننے کو تيار نہيں کہ پادريوں کے ہاتھوں بچوں کا جنسی استحصال ايک حقيقت ہے، يہی وجہ ہے کہ ان خطوں پر خصوصی توجہ مرکوز رہے گی، کيتھولک کليسا کے ارکان کے جنسی عوامل کا نشانہ بننے والے اور ان کیلئے سرگرم گروپوں کے نمائندے بھی اس موقع پر اطالوی دارالحکومت روم ميں جمع ہيں، يہ لوگ روم ميں کانفرنس کے موقع پر احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں، انہوں نے اجلاس سے قبل پوپ سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی تاہم پاپائے روم انہيں وقت نہ دے سکے اور ان کی ملاقات کانفرنس کے منتظمين ہی سے ہو سکی، اس ہی ملاقات ميں فل ساويانو نامی ايک متاثرہ شخص نے مطالبہ کيا تھا کہ ايسے عوامل ميں ملوث پادريوں کے نام جاری کيے جائيں تاکہ وہ دوبارہ بچوں کو نشانہ نہ بنائيں، اس کانفرنس کو پاپائے روم کی قيادت کیلئے ايک امتحان کے طور پر بھی ديکھا جا رہا ہے، پادريوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کے مسئلے سے نمٹنے ميں ان کی حکمت عملی پر کئی افراد نگاہيں لگائے بيٹھے ہيں، انہوں نے امريکا، چلی، آئر لينڈ اور چند ديگر رياستوں ميں حال ہی ميں سامنے آنے والے بچوں کے جنسی استحصال کے تازہ واقعات کے تناظر ميں يہ اجلاس طلب کيا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply