ٹرمپ کی کبھی نہ ختم ہونےوالی جنگ میں امریکی مداخلت پر نظر ثانی

0

امریکی نائب صدر کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد حکومت گرانے کیلئے جانے والی امریکی فوج کا فوری انخلا نہیں کیا جارہا ہے ہم یہ کام کریں گے اور اس کام کو ایک طریقہ کار کے ذریعے انجام دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ میں امریکا کی مداخلت پر نظر ثانی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایسی تمام مداخلتوں پر سنجیدہ غور میں مصروف ہیں، افغانستان سے فوج کے انخلا کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر غور کررہے ہیں، ٹرمپ نے پہلی افغان جنگ کو سوویت یونین کے خاتمے کی وجہ بتائی تھی، ٹرمپ شام اور افغانستان سے فوجوں کی واپسی کا اعلان کرچکے ہیں، ٹرمپ بیرون ملک امریکی فوجوں کی موجودگی کو غیر ضروری مداخلت سمجھتے ہیں، تاہم امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ کی اس سوچ سے شدید اختلاف کررہی ہے، اور اپنے غضے کا اظہار وزارت جنگ کے استعفے کی صورت میں دیا گیا، جس کے بعد ٹرمپ نے اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے، امریکی فوجوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا تو دنیا کے مختلف حصوں کی سیاست کی بدلے گی اور زیادہ تیز ردعمل مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نظر آسکتا ہے، امریکی نائب صدر مائیک پینس نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا اس بات پر بالکل واضح موقف ہے اور مجھے لگتا ہے کہ امریکی صدر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ افغانستان میں 18 سالہ سے جاری تنازع میں کیا ہوا اور اب ہمارے پاس کیا بہتر راستے ہیں، فوکس نیوز نے سینئر امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکام واشنگٹن میں صحافیوں کو بتارہے ہیں کہ پہلے مرحلے میں 3 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا جبکہ بقیہ فوجیوں کو بعد میں بلایا جائے گا، نائب امریکی صدر کے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو افغانستان میں تعینات 7 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کی تیاری کرنے کے احکامات کے پیش نظر سامنے آئے، مائیک پینس نے شام سے بھی تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کے امریکی صدر کے منصوبے کے حوالے سے بات کی اور بتایا کہ جنگ زدہ علاقوں سے فوری طور پر فوج کا انخلا نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کام کریں گے اور اس کام کو ایک طریقہ کار کے ذریعے انجام دیں گے، واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے میڈیا کو ریمارکس دیتے ہوئے دیگر ممالک بالخصوص روس، پاکستان اور بھارت کو افغان جنگ میں مزید شمولیت اختیار کرنے کا کہا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ہم وہاں 6 ہزار میل دور کیوں موجود ہیں، ایسے علاقے میں جہاں قریبی ممالک روس، بھارت اور پاکستان موجود نہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply