ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل میں کتب خانہ کھولنے پر مودی کا مذاق اڑایا

0

امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم مودی سے کہا کہ کتب خانے پر خرچ کی گئی رقم ہماری 5 گھنٹے کی جنگ کے خرچے برابر ہے مجھے نہیں معلوم کہ افغانستان میں اسے استعمال کون کر رہا ہے ۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے افغانستان میں کتب خانے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے بے کار قرار دے دیا، فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کابینہ کے اجلاس کے دوران پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ نریندر مودی مسلسل مجھے بتارہے تھے کہ انہوں نے افغانستان میں کتب خانہ قائم کیا ہے، امریکی صدر نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ محض ہمارے 5 گھنٹے کی جنگ پر خرچ کرنے کے برابر ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ہم کہیں کہ کتب خانے کیلئے بہت شکریہ مجھے نہیں معلوم کہ افغانستان میں اسے استعمال کون کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اشارہ کس منصوبے کی طرف تھا لیکن بھارت نے افغانستان کو 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، بھارتی حکومت کے ذرائع نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ترقیاتی شراکت دار کے طور پر افغانستان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کا مقصد افغانستان کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے، بیان میں کہا گیا کہ نئی دہلی نے افغانستان میں بنیادی ڈھانچوں اور اقتصادی ترقی میں معاونت فراہم کی ہے، بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے ٹوئٹ کیا کہ بھارت، افغانستان کے عوام کی زندگی بنا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو علم ہونا چاہیے کہ جب وہ افغانستان کو فراہم کی جانے والی امداد پر تنقید کر رہے ہیں بھارت نہ صرف لائبریریاں بلکہ سڑکیں، ڈیم، اسکول اور یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی عمارت بھی تعمیر کر رہا ہے، بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رکن اور قانون ساز احمد پٹیل نے بھی ٹوئٹ کیا کہ ’امریکی صدر کے تبصرے کا انداز اچھا نہیں تھا، جو کہ سراسر ناقابل قبول ہے، خیال رہے کہ 2015 میں بھارت کی مالی امداد سے افغان پارلیمنٹ کی تعمیر نو کے بعد اس کا افتتاح کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان کے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت سے آراستہ کرنے کیساتھ ساتھ بااختیار بھی بنائیں گے۔

Share.

About Author

Leave A Reply