وفاقی حکومت ایم کیوایم کیساتھ مل کر کراچی میں صفائی مہم چلائے گی

0

علی زیدی مطابق کراچی کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا جاسکتا جس طرح سندھ حکومت کی جانب سے کافی عرصے سے کیا جاتا رہا ہے کراچی میں صفائی مہم کیلئے 30 کمپنیوں اور 10 ہزار سے زائد رضاکاروں نے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔۔۔۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کو صاف ستھرا بنانے اور یہاں سے کچرا اُٹھانے کیلئے وفاق کے زیر انتظام کراچی میں صفائی مہم کا آغاز کردیا گیا، شہر میں صفائی مہم کے آغاز کے موقع پر منعقدہ تقریب سے وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے قوم سے رضاکارانہ طور پر اس مہم میں حصہ لینے کی درخواست کی، ان کا کہنا تھا کہ ہم اکیلے کچھ نہیں کرسکتے، ہمیں اس کام کیلئے کم از کم 15 ہزار رضاکار چاہیئں، انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کے آخر میں ہم سندھ حکومت کو شہر صاف کرکے دیں گے جسے برقرار رکھنا اس کی ذمہ داری ہوگی، واضح رہے کہ کلین کراچی مہم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شروع کی جارہی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں تمام بڑے نالوں کی صفائی کی جائے گی، میڈیا رپورٹ کے مطابق مذکورہ مہم میں وفاق کا ساتھ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، کراچی کی بلدیاتی حکومت، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور نیشنل لاجسٹک سیل (ایم ایل سی) دے رہے ہیں، خیال رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کلین کراچی مہم کے آغاز کا اعلان کیا تھا، واضح رہے کہ کراچی کی صفائی کے معاملے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) تنقید کی زد میں رہی ہے کیونکہ اس کی گزشتہ 11 برس سے سندھ میں حکومت ہے جبکہ کراچی کے شہری ادارے بشمول کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی)، سندھ سولِڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) صوبائی حکومت کے زیر انتظام آتے ہیں، گزشتہ روز وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے میڈیا کو اپنے منصوبے اور صفائی کے طریقہ کار سے متعلق بریف بھی کیا تھا، انہوں نے بتایا تھا کہ میرے پاس وزیراعظم عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ کراچی کو صاف کرو، علی زیدی نے مزید کہا کہ صفائی مہم کے پہلے مرحلے میں نالوں کی صفائی کی جائے گی، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے رات میں ٹی وی دیکھا جس میں سندھ حکومت کے ایک وزیر کہہ رہے تھے کہ ہم نے ان سے صفائی مہم میں مدد کیلئے رابطہ کیا ہے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اب تک ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا جاسکتا جس طرح سندھ حکومت کی جانب سے کافی عرصے سے کیا جاتا رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ میری وزارت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے اس مہم میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ ایف ڈبلیو او اور این ایل سی اس معاملے میں ہمیں لوجسٹک سپورٹ فراہم کر یں گے، علی زیدی کا کہنا تھا کہ 30 کمپنیوں اور 10 ہزار سے زائد رضاکاروں نے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہورہا ہے، علی زیدی نے کہا کہ کئی صنعتوں اور ان کی انتظامیہ نے اس مہم کی مالی امداد کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے لیکن فنڈز کے استعمال کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے مناسب طریقہ کار وضع کردیا گیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply