اسرائیلی فوج کی واپسی مارچ پر فائرنگ 2 فلسطینی جوان شہید 70 زخمی

0

اسرائیلی حملوں کے جواب میں حماس کا پہلا ڈرون حملہ اسرائیل ذرائع ابلاغ نے سنیچر کو اعتراف کیا ہے کہ غزہ پٹی سے ایک نامعلوم مسلح ڈرون طیارہ اسرائیل کے زیرقبضہ فلسطین کے اندر بھیجا گیا تھا جس نے اسرائیلی فوجی کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔۔۔

راملہ (میزان نیوز) غزہ میں فلسطینیوں کے 73 ویں حق واپسی مارچ کو غاصب اسرائیل حکومت کے فوجیوں نے ایک بار پھر وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا جس میں 2 فلسطینی شہید اور 70 زخمی ہوگئے، اُدھر فلسطینی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل حکومت کے ڈرون طیاروں نے غزہ پٹی کے مشرقی اور شمالی علاقوں پر پانچ بار بمباری کی، ان حملوں کے بعد غزہ میں کئی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں ابھی کوئی رپورٹ منظر پر نہیں آئی ہے، اسرائیل فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے غزہ پٹی سے جنوبی مقبوضہ فلسطین کی جانب پانچ راکٹ فائر کئے جانے کے جواب میں کئے گئے ہیں، اسرائیل حکومت کے جنگی جہازوں، ڈرون طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپخانوں نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پٹی پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے، اسرائیل کے اِن حملوں کے جواب میں غزہ کی طرف سے بھی اسرائیلی فوج پر ڈرون حملہ کیا گیا، فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل ذرائع ابلاغ نے سنیچر کو اعتراف کیا ہے کہ غزہ سے ایک مسلح ڈرون طیارہ مقبوضہ فلسطین کے اندر بھیجا گیا تھا، جس نے اسرائیلی فوجی کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، غاصب اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائے ادرعی نے میڈیا کو بتایا کہ اس ڈرون حملے کے نتیجے میں فوجی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے، صیہونی حکومت کی فوجی گاڑی غزہ پٹی کی سرحدوں کے قریب تھی کہ ڈرون طیارے کے ذریعے اس پر ایک بم فائر کیا گیا فلسطین کے اطلاعاتی مرکز کے مطابق غزہ میں جمعہ کے روز 73 ویں واپسی مارچ کے دوران اسرائیل فوجیوں نے وحشیانہ طریقے سے فائرنگ کی جس میں 2 فلسطینی شہید اور 70 فلسطینی زخمی ہوگئے، فلسطینی عوام نے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے تیس مارچ دو ہزار اٹھارہ سے واپسی مارچ کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت ہزاروں افراد ہر جمعہ کو غزہ سے ملنے والی مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کی جانب مارچ کرتے ہیں، اس مارچ کا مقصد امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خلاف احتجاج کرنا ہے، واپسی مارچ  میں اب تک 320 فلسطینی شہید اور کم سے کم 32 ہزار زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے سینکڑوں کی حالت نازک ہے، غاصب اسرائیل نے سنہ دو ہزار چھ سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ وہاں بنیادی اشیا کی ترسیل کی راہ میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں غزہ کے فلسطینیوں کو غذائی اشیا، ادویات اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply