احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر

0

ایل این جی ریفرنس کے مطابق معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا ریفرنس میں نامزد چیئرمین اوگرا عظمیٰ عادل، چیئرمین اینگرو گروپ حسین داود اور عبدالصمد شامل ہیں۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں مسلم لیگ(ن) کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق، اوگرا کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا ہے، اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے 2015ء سے ستمبر 2019ء تک ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا، جس سے 2029ء تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا، ایل این جی ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا، ریفرنس میں مجموعی طور پر 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا، جس میں نامزد چیئرمین اوگرا عظمیٰ عادل، چیئرمین اینگرو گروپ حسین داود اور عبدالصمد شامل ہیں، کیس کے دونوں مرکزی ملزمان شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اس کیس کے سلسلے میں 4 ماہ سے زیر حراست ہیں جبکہ عمران الحق نے گزشتہ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی، مذکورہ ریفرنس میں جن 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں سے 2 وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں جبکہ نیب ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل میں 20 ارب روپے کی کرپشن کی گئی، اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ کچھ عرصہ قبل گرفتار کیے گئے سیکریٹری پیٹرولیم عابد سعید ایل این جی کیس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جن کے بیان کی روشنی میں شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا تھا، نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم کو ارسال کردہ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ حکام نے نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت دھوکا دہی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایل جی ٹرمینل ون کے ٹھیکے میں بدعنوانی، بے ایمانی اور غیرقانونی ذرائع سے فوائد حاصل کرنے کے الزام میں شاہد خاقان عباسی کے کئے گئے جرم کا جائزہ لیا، نیب دستاویزت کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ خاقان عباسی کے پاس ایل این جی ٹرمینل 1 کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی ایم/ایس ای ای ٹی پی ٹی کو دینے کے حوالے سے معلومات اور شواہد موجود تھے، جو کمیشن سے متعلق ہیں، خیال رہے کہ اپریل میں حکومت نے اس کیس میں 5 دیگر افراد کے علاوہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور شاہد خاقان عباسی کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی عائد کردی تھی، شاہد خاقان عباسی پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں بحیثیت وزیر پیٹرولیم قواعد کے خلاف ٹھیکا دینے کا الزام ہے، اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا تاہم 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply