نوازشریف کی چوری آئی ایس آئی کو پتہ ہوتا ہے اسلئے فوج مسئلہ ہے

0

وزیراعظم عمران خان کے مطابق پاکستان کیلئے یہ وقت بڑا فیصلہ کن ہے، یہ جو بے روزگار سیاست دان اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے یہ کہتے ہیں ہم قانون سے بالاتر ہیں اور جواب دہ نہیں ہیں ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم اور مجرم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھارت کا ایجنڈا لے کر چلنے والے لوگ یہ ہیں، آئی ایس آئی کو ان کی چوری کا پتہ ہوتا ہے اس لئے ہر آرمی چیف سے ان کو مسئلہ ہے کیونکہ یہ فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے، اسلام آباد میں آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حضرت علیؑ کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی اور ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، عمران خان نے کہا کہ میں انتخابات سے پہلے مدینے کی ریاست کا ذکر اس لئے نہیں کرتا تھا کیونکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں جیت کیلئے یہ بات کر رہا ہوں لیکن حکومت میں آنے کے بعد بار بار اس کا ذکر کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ وکلا کے اوپر بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون پر قائم تھی اور کوئی قانون سے اوپر نہیں تھا اور یہ معاشرے کی بنیاد ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک دوسروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک قانون کی بالادستی یا قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ وقت بڑا فیصلہ کن ہے، یہ جو بے روزگار سیاست دان اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے، اصل میں کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں اور جواب دہ نہیں ہیں، ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے اور اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو وہ انتقامی کارروائی ہوگی، عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی کے پورے دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے اور اگلا کہتا ہے مجھے کیوں نکالا اور پاکستان کے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتا، کہتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا اور اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اس کا خاندان بھی نہیں مانتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قانون ہمارے لئے نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا، انہوں نے کہا کہ لوگ کسی مقصد اور نظریئے اور ظلم کا مقابلہ کرنے کیلئے نکلتے ہیں، لوگ کسی کی چوری بچانے کیلئے نہیں نکلتے، خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں کو کہہ رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلیں لیکن ان کو قیمے کے نان بھی کھلائیں تب بھی نہیں نکلیں گے، مجھے معلوم ہے کہ وہ پیسہ بھی چلانے کی کوشش کریں گے لیکن میں ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ پیسے لو، قیمے کے نان بھی کھائیں اور آرام سے گھر بیٹھیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply