نوازشریف کا احتجاجی مارچ کی حمایت پارٹی کو بحران کا شکار کردیا

0

نواز شریف نے اپنے بھائی اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی بجائے لندن میں مقیم اپنے بیٹے حسین نواز کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پیغام رسانی کا سلسلہ جاری رکھا مارچ کیلئے پارٹی کو متحرک کریں شہباز شریف کو ہدایت۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کی حمایت کے فیصلے نے مسلم لیگ(ن) کے اندر ابھرتا ہوا بحران سنگین کردیا ہے، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کی دو ٹوک حمایت کے فیصلے نے یہ بھی واضح کردیا کہ نواز شریف فیملی، نواز شریف نے گيارہ اکتوبر کی صبح احتساب عدالت آمد پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے موقف کو اپنا ہی موقف قرار ديا، ان کے بقول مولانا احتجاج کر رہے ہیں تو وہ بالکل ٹھیک کر رہے ہیں، اس سے پہلے شریف فیملی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی، شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر چلتے ہوئے ریلیف حاصل کرنے کے حامی رہے ہيں، وہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں شمولیت کے حامی نہیں تھے، وہ کمر درد کی وجہ سے گزشتہ روز نواز شریف سے طے شدہ ملاقات کیلئے جیل بھی نہیں گئے تھے، نتيجتاً نواز شریف نے اپنے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی بجائے لندن میں مقیم اپنے بیٹے حسین نواز کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پیغام رسانی کا سلسلہ جاری رکھا، سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق شہباز شریف کے موقف کی ناکامی کی وجہ سے ملک کے ان طاقتور حلقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جو شہباز شریف کے ذریعے نواز شریف سے اپنی شرائط منوانے کیلئے تگ و دو کررہے تھے، اب نواز شریف نے تحریری طور پر شہباز شریف کو ہدایات دی ہیں کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے پارٹی کو متحرک کریں، اس سلسلے میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے، احتساب عدالت نے چوہدری شوگر مل کیس میں نوازشریف کو 14 روز کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا ہے، نواز شریف کے داماد کیپٹن ريٹائرڈ محمد صفدر نے اس پر کہا کہ نواز شریف جیل میں ایک ملاقاتی رابطے کے ذریعے مولانا فضل الرحمن سے رابطے میں تھے، ان کوایک نئے مقدمے میں نیب بھجوانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ ان کا رابطہ مولانا فضل الرحمن سے منقطع کیا جاسکے، دورانِ سماعت نوازشریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ وہ اس ملک میں وزیر بھی رہے اور تین مرتبہ وزیر اعظم بھی رہے، انہوں نے چيلنج کيا کہ پانچ مرتبہ کی وزارت میں ایک پیسے کی کرپشن ثابت کی جائے، وہ سیاست سے دستبردار ہوجائيں گے، نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف سن 1992ء میں 43 ملین کے شیئرز کے مالک تھے، انہوں نےسنہ 1992 میں اتنے شیئرز کیسے حاصل کیے، یہ نہیں بتایا گیا؟ نوازشریف کو ايک کروڑ 55 لاکھ روپے سنہ 1992 میں بیرون ملک کی ایک کمپنی نے فراہم کیے، اس کی تفصیلات بھی موجود نہیں ہیں، اس کے جواب ميں نوازشریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف چوہدری شوگر مل کے ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر کبھی بھی نہیں رہے، ان کے تمام تر اثاثہ جات قانون کے مطابق ہیں، نوازشریف پر سیاسی کیس بنائے گئے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply