نواز شریف مفرور ہیں، گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے

0

عدالتی کارروائی میں یہ بات بھی کی گئی کہ نوازشریف بیمار تھے جب لندن گئے مگر نوازشریف نہ تو ہسپتال میں داخل ہوئے اور نہ مرض کا علاج کروایا عدالت نے کہا ابھی تو ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وفاقی علاقے کی ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب)کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دائر درخواستوں کو مسترد کردیا ہے، عدالت نے سابق وزیر اعظم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی حاضری استثنیٰ اور نمائندے کے ذریعے کیس کی پیروی کرنے سے متعلق درخواستوں پر منگل کو سماعت کی، سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مختصر فیصلہ سنایا جس میں قرار دیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی حاضری سے استثنی اور نمائندے کے ذریعے اپیلوں کی پیروی کرنے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، قبل ازیں جب سماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت منسوخی کیلئے درخواست دائر کی ہے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم نے نواز شریف کے وکیل خواجہ صاحب کے دلائل سننے ہیں، خواجہ صاحب نے نواز شریف کی عدم موجودگی سے متعلق درخواست سننے پر عدالت کو مطمئن کرنا ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا ایک عدالت سے اشتہاری ہوتے ہوئے نواز شریف کی اپیل سنی جاسکتی ہے، اگر نواز شریف کی عدم حاضری پر اپیل سنی جا سکتی ہے تو پھر نیب کو بھی سن لیتے ہیں، جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ابھی تو ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ العزیزیہ ریفرنس میں ہم نے مقررہ وقت کیلئے ضمانت دی تھی، العزیزیہ ریفرنس کے اندر کوئی بیل آرڈر نہیں ہے، ایون فیلڈ ریفرنس کو بعد میں سنیں گے، پہلے العزیزیہ کو سنتے ہیں، عدالتی کارروائی میں یہ بات بھی کی گئی کہ نوازشریف بیمار تھے جب لندن گئے مگر نوازشریف نہ تو ہسپتال میں داخل ہوئے اور نہ مرض کا علاج کروایا۔

Share.

About Author

Leave A Reply