مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کشیدہ تین سو افراد گرفتار 6 مظاہرین شہید

0

پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے مرکز کے زیرِ انتظام کے بعد سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت معطل کر رہا ہے ۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر کے حکام کے مطابق ریاست کی مخصوص حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک کم سے کم 300 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، عارضی حراستت مراکز میں رکھے گئے ان افراد میں سیاست دان، تاجر اور کارکن شامل ہیں، اتوار کی رات سے وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے اور موبائل، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے، روئٹرز خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج روکنے کیلئے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، ایک پولیس افسر کے بقول لوگوں میں بہت زیادہ غصہ ہے، بعض مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے دیکھا، بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 کشمیری شہید ہوگئے جبکہ متعدد مظاہرین زخمی بھی ہوئے، شہریوں کا خیال ہے کہ تشدد میں اضافہ ہوگا، کشمیر میں لوگ بہت برہم ہیں، وہ ایک آتش فشاں کی طرح ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور انڈیا نتائج سے بالکل بے خبر ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے باوجود کرتارپور راہداری پر کام جاری رہے گا، پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ بات جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتائی، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‏پاکستان تمام مذاہب اور ان کے پیروکاروں کی مذہبی رسومات کا احترام کرتا ہے اور اس کشیدہ صورتحال میں بھی کرتار پور راہداری منصوبہ جاری رہے گا، خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں پاکستان نے کرتار پور راہداری کے حوالے سے مجوزہ معاہدہ انڈیا کے حوالے کیا تھا، راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلومیٹر سڑک شامل ہے، منصوبہ رواں برس نومبر میں سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کی 550ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے، بریفنگ میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے انڈیا سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ ہی حالیہ انڈین اقدامات کے بعد پاکستانی فضائی حدود انڈیا کیلئے بند کی گئی ہے، تاہم پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو معطل کر دیا گیا ہے، پاکستان نے بدھ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنائے جانے پر اس کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے، دو طرفہ تجارت معطل کر رہا ہے، ادھر انڈیا نے پاکستان کی جانب سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کے فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِثانی کرے، انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے انڈیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں سفارتی تعلقات محدود کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا ہے، بیان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد دنیا کے سامنے دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں پریشان کن تصویر پیش کرنا ہے اور پاکستان کی جانب سے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں

Share.

About Author

Leave A Reply