مشرق وسطیٰ سے امریکی فوج کو جانا ہوگا اسکی موجودگی برداشت نہیں

0

عراق میں امریکا کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایران نے میزائل حملے کرکے امریکا کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے یہ ٹھیک ہے لیکن فوجی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ایران سے امریکی دشمنی کوئی موسمی نہیں بلکہ یہ دائمی دشمنی ہے۔۔۔

تہران (میزان نیوز) رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز قم سے آئے ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ سے امریکی فوج کو نکالنا ہوگا، اس خطے کی اقوام کو امریکا کی موجودگی برداشت نہیں ہے، اُنھوں نے کہا کہ عراق میں امریکا کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایران نے میزائل حملے کرکے امریکا کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے، یہ ٹھیک ہے لیکن فوجی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے، اُنھوں نے کہا کہ اس علاقے میں امریکا کی فتنہ انگیز موجودگی ختم ہونی چاہیئے اُنھوں نے کہا کہ امریکی اس خطے میں جنگ لایا، اختلاف و فتنہ اور تباہی لایا ہے اور اس نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا، اُنھوں نے کہا کہ امریکی جہاں بھی گئے یہی کیا لیکن ہم فی الحال اپنے علاقے کی بات کررہے ہیں، رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکی ایران میں بھی وہی کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے مذاکرات پر اصرار بھی کررہے ہیں، اُنھوں نے کہا کہ امریکیوں سے مذاکرات ان کی مداخلت کا پیش خیمہ ہوں گے، رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن شناسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن سے مراد امریکا اور اسرائیل حکومت ہے، اُنھوں نے کہا کہ سامراجی نظام سے ہماری مراد صرف حکومتیں نہیں ہیں بلکہ اس نظام میں سامراجی حکومتوں کے ساتھ ساتھ  وہ کمپنیاں، لٹیرے اور ظالم بھی شامل ہیں جو ہر اس مرکز کے مخالف ہیں جو ظلم و غارتگری کا مخالف ہو، دشمن کی ہم سے دشمنی کوئی موسمی نہیں ہے بلکہ یہ دائمی دشمنی ہے، امام سید علی خامنہ ای نے شجاعت، بصیرت اور راہ خدا میں اخلاص کو شہید جنرل قاسم سلیمانی کی ممتاز خصوصیات میں شمار کیا، رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کی خصوصیات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ شجاع بھی تھے اور صاحب بصیرت و تدبیر بھی، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ بعض لوگوں میں شجاعت ہوتی ہے لیکن ان میں صحیح تدبیر اور سوجھ بوجھ کے ساتھ کام کرنے کی توانائی نہیں پائی جاتی، اُنھوں نے کہا کہ اسی طرح بعض لوگوں میں بصیرت اور سوجھ بوجھ ہوتی ہے لیکن ان کے اندر میدان عمل میں قدم رکھنے کی جرات اور شجاعت نہیں ہوتی، لیکن شہید جنرل قاسم سلیمانی کے اندر بصیرت، سوجھ بوجھ اور تدبیر بھی پائی جاتی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ خطرات میں کود پڑنے کی شجاعت بھی موجود تھی، رہبر انقلاب اسلامی نے اخلاص کو شہید جنرل قاسم سلیمانی کی سب سے بڑی خصوصیت قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنی سوجھ بوجھ، بصیرت و تدبیر اور شجاعت کو راہ خدا میں استعمال کرتے تھے، انھوں نے جنرل قاسم سلیمانی کے رفیق اور انکے ساتھ شہید ہونے والے عراق کی الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر شہید ابو مہدی المہندس کی محبوب شخصیت کی جانب اشارہ کیا اور انہیں استقامتی محاذ کا ایک نورانی اور مؤثر چہرہ قرار دیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply