مسلم ملکوں کی ترجمانی پر سعودی عرب اور اسرائیل کا ترک مخالف محاذ

0

سعودی عرب نے خبردار کرتے ہوئے پاکستان کو ترک حکومت سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور ترکی کے معاشی نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے سعودی بادشاہت کی تعبیداری جاری رکھنے پر کمزور معیشت کے حامل پاکستان کو فائدے کی نوید سنائی ہے۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) ترکی اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی تجارتی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کی سرکاری سرپرستی میں ترک اشیا کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے، قطر اور اخوان المسلمون کی حمایت اور اسلامی ملکوں کی قیادت کی اس لڑائی میں غیر رسمی پابندیاں، غیر سرکاری رکاوٹیں، سرحد پر تاخیر اور ترک اشیا کے بائیکاٹ کے مطالبے شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکے ہیں، اکتوبر میں ترک لاجسٹکس اسوسی ایشن نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب کو جانے والی تین ارب ڈالر کی برآمدات خطرے میں ہیں، فارن اکانومک ریلیشنز بورڈ کے ڈپٹی سیکرٹری میرح کپیز نے اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ ترکی کو ان پابندیوں کی قیمت ادا کرنی پڑرہی، ترکی اور سعودی عرب کے اتحاد میں شامل خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے درمیان مصر میں 2013 میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹائے جانے، 2017 میں قطر کی ناکہ بندی، صحافی جمال خاشقجی کی استنبول میں سعودی سفارتخانے میں ہلاکت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تناؤ ہے، اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں ترکی کو سعودی عرب کی جانب سے متعدد اہم معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، سعودی عرب نے خبردار کرتے ہوئے پاکستان کو بھی ترک حکومت سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور ترکی کے معاشی نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے سعودی بادشاہت کی تعبیداری جاری رکھنے پر کمزور معیشت کے حامل پاکستان کو فائدے کی نوید سنائی ہے، ترک قیادت میں پاکستان، ایران، قطر اور ملائیشیا سمیت کئی مسلمان ملک سعودی بادشاہت کی اسلام اور مسلمانوں کی ترجمانی کے حوالے سے خیانت کاریوں سے دلبرداشتہ اسلامی بلاک تشکیل دے رہے ہیں، جس کے تحت وسیع تر کارروباری اور دفاعی اشتراک عمل کا آغاز ہونے جارہا ہے، سعودی عرب اور اسرائیل اس بلاک کی باقاعدہ تشکیل سے قبل ہی مذموم منصوبوں میں ایک دوسرے سے تعاون بڑھا رہے ہیں، ترکی کو سعودی بادشاہت کی جانب سے سزا دینے کا عمل جاری رکھتے ہوئے نجی شعبے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ترک اشیا کا بائیکاٹ کریں، اسی ضمن میں سپر مارکیٹ العثیم نے تمام ترک اشیا کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ معروف سعودی فاسٹ فوڈ چین ہرفی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترک برگر کی جگہ یونانی برگر بیچیں گے، واضح رہے کہ ترکی اور یونان کے مابین تعلقات میں سرد مہری ہے، ترک کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھیں سعودی عرب میں اشیا لانے اور وہاں پر تعمیراتی ٹھیکے حاصل کرنے میں مشکلات ہورہی ہیں، 22 اکتوبر کو فاکس ٹی وی نیوز اینکر اسماعیل کوکچکایا نے بتایا کہ اگر (ترک اشیا) ملک میں داخل ہو بھی جائیں تو دکانوں پر ترک اشیا کے ساتھ لیبل لگا ہوا ہوتا ہے کہ ترک اشیا کو ہاتھ مت لگائیں، ادھر ترکی میں برآمد کے کاروبار سے منسلک لوگوں کے حوالے سے مقامی میڈیا میں بھی خبریں آچکی ہیں کہ انھیں سعودی عرب میں پابندیوں کا سامنا ہے، ترک کاروباروں کا کہنا ہے کہ انھیں شمالی افریقی اور خلیجی ممالک میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، 13 اکتوبر کو ترک اخبار روزنامہ صباح نے رپورٹ کیا کہ ترک برآمدی کمپنیوں کو الجیریا میں غیر عمومی دستاویزات کے مطالبوں اور تاخیر کا مسلسل سامنا ہے، ادھر قوم پسندی میں یقین رکھنے والے جریدے اولوسال نے 14 اکتوبر کو بتایا کہ گزشتہ ماہ مراکش، الجیریا، اور تیونس نے کسٹمز کے وقت میں پانچ گنا اضافہ کردیا ہے، ترک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم امہ کی ترجمانی کرنے کیلئے ترکی کو یہ قربانی دینا پڑے گی۔

Share.

About Author

Leave A Reply