مسلمانوں کو چند ایکڑ زمین کی بھیک نہیں، حق چاہیئے، مسلم رہنما اویسی

0

مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے کہا کہ انڈیا میں مسلمان غریب ہیں اور تعصب کا شکار بھی ہیں لیکن اتنے بھی گئے گزرے بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کیلئے 5 ایکڑ زمین نہ خرید سکے ہمیں خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں ہم قانونی حق کیلئے لڑرہے تھے۔۔۔

نئی دہلی (میزان نیوز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو چند ایکڑ زمین کی بھیک نہیں اپنا حق چاہیئے، بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے بابری مسجد فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں مسلمان غریب ہیں اور تعصب کا شکار بھی ہیں لیکن اتنے بھی گئے گزرے بھی نہیں کہ  اللہ کیلئے پانچ ایکڑ زمین نہ خرید سکے، ہمیں کسی کے خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں، ہم اپنے قانونی حق کیلئے لڑ رہے تھے، اسد اویسی نے مزید کہا کہ عدالت عظمٰی کا احترام ہے، وہ سپریم اتھارٹی بھی ہے لیکن غلطی سے مبرا نہیں، جن لوگوں نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد گرائی تھی آج انھی کو سپریم کورٹ نے ٹرسٹ بنا کر مندر کا کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حقائق کی نہیں عقیدے کی جیت ہے، اس فیصلے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں، اسد الدین اویسی نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر 1989ء میں راجیو گاندھی مسجد کا تالا نہیں کھولتے تو وہاں انتہا پسند چپکے سے مورتیاں رکھ کر یہ سارا ڈرامہ نہیں کرپاتے اور اب کانگریس منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے، واضح رہے کی بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میں متنازع زمین کو ہندوؤں کی ملکیت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو کسی اور جگہ مسجد تعمیر کرنے کیلئے 5 ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا ہے، دوسری طرف سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے ہندوستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کا فیصلہ آنے کے بعد عدالت کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی مستقبل کا لائحہ عمل پرغور کیا جائے گا، نرموہی اکھاڑے کے ترجمان کارتک چوپڑا نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے تئیں ممنون ہیں کہ اس نے ان کی جدوجہد کو تسلیم کیا اور رام مندر بنانے کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے قائم کئے جانے والے ٹرسٹ میں انہیں مناسب نمائندگی دی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply