کشمیر پر بولنے کا خوف سری لنکن پارلیمان سےعمران کا خطاب منسوخ

0

سری لنکن میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ ان تحفظات پر کیا گیا کہ عمران خان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور سری لنکن مسلمانوں سے متعلق امتیازی سلوک پر بول سکتے ہیں جو نئی دہلی کے ساتھ کولمبو کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سری لنکا کے وزیراعظم مہیندا راجہ پاکسا کی دعوت پر دو روزہ دورہ سری لنکا کیلئے روانہ ہوگئے، ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے میں مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون مزید بڑھانے کیلئے سری لنکن قیادت سے بات چیت کریں گے، اس دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد ہے جس میں کابینہ کے اراکین اور دیگر سینئر حکام شامل ہیں، دورہ میں وزیراعظم عمران خان سری لنکا کی قیادت اپنے ہم منصب سے اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، اس کے علاوہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت دفاع اور ثقافتی سیاحت کے شعبوں میں اعلیٰ سطح مذاکرات کی قیادت کریں گے، وزیراعظم دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے مقصد سے متعلق ایک مشترکہ تجارت اور سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت بھی کریں گے، مزید یہ کہ دورے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئے مختلف معاہدوں پر دستخط بھی ہوں گے، قبل ازیں دفتر خارجہ نے بتایا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی رابطوں کو مزید بڑھانے کیلئے سری لنکا- پاکستان دوستی ایسوسی ایشن کا اعلان کیا جائے گا، اس بیان میں سری لنکن پارلیمنٹ سے تقریر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا، سری لنکن حکومت نے مذکورہ ایونٹ کو منسوخ کرتے ہوئے باضابطہ طور پر کہا تھا کہ کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے ایسا کیا گیا، تاہم سفارتی ذرائع اور سری لنکن میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ ان تحفظات پر کیا گیا کہ عمران خان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق بول سکتے ہیں جو نئی دہلی کے ساتھ کولمبو کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے، ایک اور قیاس آرائی یہ ہے کہ سری لنکن حکومت کو یہ فکر ہے کہ عمران خان اپنی تقریر میں سری لنکن مسلمانوں کی حالت زار کا حوالہ دے سکتے ہیں جو بدھ مت کے اکثریتی ملک میں امتیاری رویوں کا سامنا کررہے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply