متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کیساتھ اعلانیہ فضائی رابطے قائم

0

خلیج فارس کے عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سرگرم ہیں اور سعودی ولیعہد بن سلمان کی قیادت میں عرب ممالک اسرائیل کو دوست ملک کی حیثیت دے چکے ہیں جبکہ اسرائیلی حکام کو دوروں کی اجازت بھی دی گئی ہے۔۔۔

دبئی (میزان نوز) متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی سے پہلی مرتبہ اتحاد ایئرویز کی ایک اعلانیہ پرواز منگل انیس مئی کو اسرائیل پہنچی، جس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں میں اعلانیہ فضائی رابطوں کا آغاز ہوگیا، متحدہ عرب امارات کی یہ پیشرفت ایسی حالت میں ہوئی ہے جب اسرائیل کی غاصب حکومت مقبوضہ غرب اردن کو اسرایل کا حصّہ بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے تل ابیب کو عرب سرزمین غصب کرنیا گرین سگنل دے دیا ہے، اس خصوصی پرواز کے ذریعے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے طبی امدادی سامان تل ابیب پہنچایا گیا، ابوظہبی سے بدھ بیس مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب متحدہ عرب امارات نے کھل کر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کیلئے اہم پیشرفت کی ہے، عرب ممالک میں سے اب تک صرف اردن اور مصر ہی وہ دو ممالک ہیں، جنہوں نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں، ان دو ریاستوں کے برعکس خلیج فارس کے عرب ممالک میں سے کسی کے بھی اسرائیل کے ساتھ کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسرائیلی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے، تاہم خطے میں ایران کی کھلی مخالفت کرنے والے عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سرگرم ہیں اور سعودی ولیعہد بن سلمان کی قیادت میں عرب ممالک اسرائیل کو دوست ملک کی حیثیت دے چکے ہیں، اتحاد ایئرویز کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اتحاد ایئرویز نے منگل انیس مئی کو ابوظہبی سے اپنی ایک پرواز تل ابیب بھیجی، جس میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا، عملے کے ارکان صرف انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی وہ طبی امداد لے کر گئے تھے اور اس امداد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ طبی امداد اسرائیل کے فلسطینی باشندوں کیلئے ہے، واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی خوشنودی کی خاطر غزہ کیلئے مالی امداد سمیت کسی بھی طرح کی امداد نہ دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے، متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق اس پرواز کے ذریعے ابوظہبی سے 14 ٹن طبی امدادی سامان تل ابیب بھیجا گیا۔ اس سامان میں حفاظتی ماسک اور دیگر طبی امدادی اشیاء شامل تھیں، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عام شہریوں کے لیے بھیجی گئیں۔ اس ساز و سامان میں 10 وینٹیلیٹر بھی شامل تھے، جن کی اسرائیل میں شدید قلت ہے، دوسری طرف خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ایسے زیادہ سے زیادہ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ وہ اسرائیل کے بارے میں اب مصالحت پسندانہ سوچ اپناتی جارہی ہیں، اس کے ثبوت 2018ء میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا دورہ عمان اور بحرین کی بزنس کانفرنس میں اسرائیل کی شرکت تھی، اس کے علاوہ اب ماضی کے مقابلے میں اسرائیلی کھلاڑیوں اور حکام کو خلیجی عرب ریاستوں کے دوروں کی اجازت بھی زیادہ دی جانے لگی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply