متحدہ اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں بلوچ حاصل بزنجو کا انکشاف

0

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو نے اپنی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض پر سیاسی معاملات میں مبینہ عمل دخل کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا۔۔۔

کوئٹہ (میزان نیوز) پاکستان کے ایوانِ بالا کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی پر متحدہ اپوزیشن کے امیدوار میر حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کا ذمہ دار آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض کو قرار دیا تھا، ادارے کو نہیں، واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج میں ناکامی کے بعد مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار حاصل بزنجو نے اپنی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مبینہ عمل دخل کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا، انھوں نے بتایا کہ انتخابات سے قبل حزب اختلاف کے پاس اس قسم کی اطلاعات تھیں کہ اتحاد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے رہنما اور پاکستان کے ایوان بالا میں چیئرمین کیلئے متحدہ اپوزیشن کے امیدوار میر حاصل بزنجو نے بتایا کہ وہ ماضی کے ٹریک ریکارڈ کی بات کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ آپ نے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) دیکھی، آپ نے جنرل حمید گل کو دیکھا، آپ نے اسد درانی کو دیکھا، اصغر خان کیس سب کے سامنے ہے، فیض آباد دھرنے کے جو ویڈیو کلپ سامنے آئے وہ بھی لوگوں نے دیکھے، اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کو جس طرح نکالا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے جن کمنٹس پر ٹرائل ہو رہا ہے، ان تمام کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے، میں نے جو بات کی ہے اس کا جواب عدالت کو دوں گا اور مجھے تین عدالتوں میں بلایا گیا ہے، میں نے ادارے کی بات نہیں کی، سربراہ کی بات کی ہے، میں نے جنرل فیض کی بات کی تھی، انھوں نے کہا کہ بگٹی ان کیلئے محترم ہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بگٹی نے اپنی قوم کے ساتھ فراڈ کیا ہے تو یہ اس کی رائے ہو سکتی ہے، میر حاصل نے مسکراتے ہوئے کہا میرا ایسا کوئی خیال نہیں ہے، نہ میں بگٹی بننا چاہتا ہوں اور نا غیر بگٹی میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، میر حاصل بزنجو کا سینیٹ انتخابات میں ناکامی پر کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے جن منحرف سینیٹروں نے ان کے خلاف ووٹ دیا، انھوں نے ضمیر فروشی کی اور ایسا لالچ اور دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا، انھوں نے بتایا کہ انتخابات سے قبل حزب اختلاف کے پاس اس قسم کی اطلاعات تھیں کہ اتحاد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، مگر چھ سے آٹھ اراکین پر ان کو شبہ تھا جنھیں وہ جانتے بھی تھے۔ 

Share.

About Author

Leave A Reply