قبلہ اوّل سےغداری سوڈان نے معاشی فوائد کیلئےاسرائیل کو تسلیم کرلیا

0

صدر ٹرمپ نے سوڈان کو دہشت گردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال کر ملک میں معاشی امداد اور سرمایہ کاری کو بھی بحال کردیا ہے فلسطینی تنظیموں نے سوڈان کے فیصلے کو شرمناک اور قبلہ اوّل سے غداری قرار دیدیا۔۔۔

واشنگٹن/خرطوم (میزان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سوڈان اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لارہا ہے، قبل ازیں سوڈان کی عبوری حکومت کہہ چکی تھی کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کرنا اُن کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہے، امریکہ نے سوڈان کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی صورت میں امریکی پابندیوں کو ختم کرنے اور دہشت گردی کی فہرست سے اس ملک کو نکالنے کا وعدہ کیا ہے، سوڈان کو سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے، خونریز مظاہروں کے بعد عمرالبشیر کی مطلق العنان حکومت کی برطرفی کے بعد سعودی عرب نے بھی اس ملک کی مالی مدد کرنے سے انکار کردیا ہے، اس صورتحال میں امریکی دباؤ کارگر ثابت ہورہا ہے اور سوڈان نے واشنگٹن کو سبز بتی دکھائی ہے، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے سوڈان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کا اشارہ دیا ہے، صدر ٹرمپ نے سوڈان کو دہشت گردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال کر ملک میں معاشی امداد اور سرمایہ کاری کو بھی بحال کردیا ہے، فلسطینی ریاست کے حکام اور تمام فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے سوڈان کے اس فیصلے کو شرمناک اور غداری سے تعبیر کیا ہے، تاریخی طور پر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکارت کو 1967 کی جنگ میں مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے قیام سے مشروط کر رکھا تھا، اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معاہدہ ڈرامائی پیشرفت اور ایک نئے دور کا آغاز ہے، انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور سوڈان کے وفود تجارتی اور زرعی تعاون پر تبادلہ خیال کیلئے ملاقات کریں گے، سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے اپنے ملک کو دہشت گردی کی فہرست سے ہٹانے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سوڈان کی حکومت بین الاقوامی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہے جو ہمارے عوام کی بہترین خدمت کیلئے ہے، یہ اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کم از کم پانچ مزید عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ چاہتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply