فوج کےخلاف بولنے پر پرچہ درج ہوا تو شیخ کی وزارت نہیں رہےگی

0

انصار الاسلام سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ ان کی بوکھلاہٹ اور خوف کی علامت ہیں کہ ایک نہتی تنظیم جو رضا کار ہیں اور ماضی میں یہ ان کی تعریفیں کر چکے ہیں لیکن آج انہیں اس پر پابندی کی بات یاد آرہی ہے۔۔۔۔

لاہور (میزان نیوز) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں لیکن مذاکرات کس سے کریں جعلی حکومت سے جو عوام کی نمائندہ نہیں ہے، انہوں نے فوج کے خلاف بات کرنے پر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے 72 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ میرے خیال میں آپ نے یہ حرکت کی تو آپ کی وزارت نہیں رہے گی، اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جب تک میں وزیر داخلہ ہوں جو کوئی بھی فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرے گا اس پر 72 گھنٹے میں پرچہ کٹواؤں گا، لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فضل الرحمٰن نے حکومت اور وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس جذبے سے ہم لڑ رہے ہیں اس سے سمجھ لینا چاہیئے کہ تم ووٹ چوری کرکے آئے ہو اور ہم کھل کر آپ کی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی ہے ہم حسینیؑ ہیں اور تم یزیدی ہو، مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم فوج کے احترام اور تقدس میں کوئی فرق نہیں لانا چاہتے، ہم تمام جنرلز کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر فوج سیاست میں مداخلت کرے گی تو ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہیں گے کہ تم اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہو، اس موقع پر انصار الاسلام سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ ان کی بوکھلاہٹ اور خوف کی علامت ہیں کہ ایک نہتی تنظیم جو رضا کار ہیں اور ماضی میں یہ ان کی تعریفیں کر چکے ہیں لیکن آج انہیں اس پر پابندی کی بات یاد آرہی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply