فوج کیساتھ کھڑےنہیں ہوتے تو دہشت گردی کو شکست نہیں ہوتی

0

پاکستانی فوج نے قربانیاں دی ہیں جوانوں نے ملک کیلئے جانیں شہید کی ہیں ہم کہتے ہیں کہ اللہ قبول فرمائے آپ (فوجی جوان) نے تو پیٹی اسی لئے باندھی ہے آپ(فوج) نے رینک اسی لئے لگائے ہیں اور تنخواہ بھی اسی چیز کی لیتے ہیں۔۔۔

پشاور (میزان نیوز) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر ہم، کارکنان، جمعیت علمائے اسلام اور مذہبی طبقے کے لوگ ملک کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو فوج دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتی تھی، ٹانک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے کام سے کام رکھنا اور دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرنے سے ملک چلے گا ورنہ پھر سمجھوتے کی سیاست ہوگی، آپ زور آور ہیں تو میں آپ کو برداشت کروں گا اور آپ مجھے کریں گے اور اسی طرح ایک دوسرے سے گزارا کریں گے، بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زور آور آدمی غریب کی زمین پر ہل چلائے تو وہ بے چارا کچھ نہیں کہہ سکتا، قوم کو کمزور کرکے یہ کہنا کہ ملک میں امن ہے اور نظام ٹھیک چل رہا ہے، شاید ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی بات ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سنجیدہ ہیں، ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں لیکن ملک کسی کی ملکیت بھی نہیں ہے بلکہ یہ سب کا ہے، بس فرق اتنا ہے کہ دنیا میں جہاں آمر ہوگا اس کو زمین سے دلچسپی ہوگی جبکہ جہاں جمہوریت ہوگی وہاں عوام سے دلچسپی ہوگی، فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آمرانہ قوت علاقے پر قبضے اور اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا سوچتی ہے جبکہ جمہوری ماحول میں لوگوں کی فلاح و بہبود مقصود ہوتی ہے، عوام خوش ہے تو پھر سیاست، پارلیمنٹ اور ملک کا نظام بھی ٹھیک چل رہا ہے، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تعریفیں کی جاتی ہیں جو بری بھی نہیں ہیں کہ فوج نے قربانیاں دی ہیں، جوانوں نے ملک کیلئے جانیں شہید کی ہیں، ہم کہتے ہیں کہ اللہ قبول فرمائے آپ(فوجی جوان) نے تو پیٹی اسی لئے باندھی ہے، آپ نے رینک اسی لئے لگائے ہیں اور تنخواہ بھی اسی چیز کی لیتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply