فرانس، مذہبی اُمور میں ریاستی مداخلت 76مساجد کےخلاف تحقیقات

0

فرانس کی ایک اعلیٰ عدالت نے حال ہی میں پیرس کے شمال مشرق کی طرف جامع مسجد آف پینٹن کو چھ ماہ کیلئے بند کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اس مسجد میں بنائی گئی ایک ویڈیو میں پیغمبر اسلامؐ کی توہین کے مرتکب شخص کی مذمت کی گئی تھی۔۔۔

پیرس (میزان نیوز) فرانسیسی حکام نے مذہبی انتہا پسندی سے ممکنہ روابط کی بنیاد پر درجنوں مساجد اور عبادت کیلئے مختص مقامات کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے، وزیرِ داخلہ جیرالڈ ڈارمانین نے اس کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر مساجد شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کرتی پائی گئیں تو انھیں بند کردیا جائے گا، ایسا انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے ایک قانون متعارف کرائے جانے کے ایک ہفتہ بعد کیا جارہا ہے، یہ اکتور میں ہونے والے حملوں کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے جن کا الزام مذہبی انتہا پسندوں کو دیا جاتا ہے، ان واقعات میں ٹیچر سیمیول پیٹی کو پیغمبر اسلامؐ کی توہین کا مرتکب ہونے پر قتل کردیا گیا تھا، فرانسیسی میڈیا کے مطابق جیرالڈ ڈارمانین نے علاقائی سکیورٹی کے سربراہوں کو بھیجے گئے ایک نوٹ میں کہا کہ 76 مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کے خصوصی چیکس اور نگرانی ہوگی، جن میں سے 16 پیرس کے مختلف علاقوں میں واقع ہیں، انھوں نے ان میں سے 18 کے متعلق فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، تحقیقات جمعرات سے شروع ہوچکی ہے ہیں، ایک ٹویٹ میں انھوں نے اسے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک بڑا اور بے مثال عمل قرار دیا، روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ریاستی انسپیکٹرز ان کی مالی معاونت، امام کے روابط، اور ممکنہ طور پر بچوں کو قرآن سکھانے کے مدارس کا معائنہ کریں گے، فرانس کی ایک اعلیٰ عدالت نے حال ہی میں جامع مسجد آف پینٹن کو چھ ماہ کیلئے بند کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اس مسجد بنائی گئی ایک ویڈیو میں پیغمبر اسلامؐ کی توہین کے مرتکب شخص کی مذمت کی گئی تھی، یہ مسجد دارالحکومت پیرس کے نواح میں شمال مشرق کی طرف ایک کم آمدنی والے علاقے میں واقع ہے، فرانس کی قومی شناخت میں ریاستی سکیولرازم کی مرکزی حیثیت ہے تاہم اب یہ ملک مسلم دشمنی کو قومی پالیسی بنارہا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply