غزنی یونیورسٹی میں دھماکہ 5 ہلاک 12 طالبات سمیت درجنوں زخمی

0

افغان حکام کے مطابق نیٹو کیساتھ ایک مشترکہ کارروائی میں القاعدہ کے سینیئر رہنما عاصم عمر کو ہلاک کر دیا گیا ہے افغان طالبان نے افغان حکام کے بیان کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ کا سینیئر رہنما عاصم عمر کو ہلاک کردیا گیا ہے۔۔۔

کابل (میزان نیوز) افغانستان کی غزنی یونیورسٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں، خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی گورنر کے ترجمان عارف نوری کا کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کے مضافات میں واقع غزنی یونیورسٹی میں زخمی ہونے والے طلبہ میں 12 طالبات بھی شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ زخمی طلبہ میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے، یہ بم دھماکا منگل کی صبح غزنی یونیورسٹی کے ایک کلاس روم میں ہوا، اس دھماکے میں دسیوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، زخمیوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، طالبان نے 7 جولائی کو غزنی میں حساس ادارے کے دفتر کے قریب ہوئے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جہاں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے تھے، مشرقی افغانستان میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران یہ دوسرا دھماکا ہوا ہے، صوبہ ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں گذشتہ رات ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں بارہ افغان فوجی ہلاک اور بتیس زخمی ہوئے تھے، ننگرہار اور غزنی مشرقی افغانستان کے شورش زدہ صوبے  شمار ہوتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں طالبان اور داعش موجود ہیں، دوسری طرف افغان حکام نے منگل کو دعوی کیا تھا کہ انہوں نے نیٹو کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی میں القاعدہ کے سینیئر رہنما عاصم عمر کو ہلاک کر دیا گیا ہے، افغان طالبان نے کابل میں حکام کے اس بیان کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے نیٹو کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی میں القاعدہ کے سینیئر رہنما عاصم عمر کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا، طالبان ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے ایک مختصر بیان میں کسی القاعدہ کے رکن کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہلمند کے موسی قلعہ علاقے میں حملہ ایک شادی کی تقریب پر ہوا تھا جس میں بقول ان کے عام شہری ہلاک ہوئے ہیں، افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ عاصم عمر کے ساتھ چھ دوسرے جنگجو بھی مارے گئے جن میں سے اکثر پاکستانی تھے۔ ان میں عاصم کی طرف کی ایمن الظواہری کو پیغام رسانی کرنے والے ریحان بھی شامل ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply