عید کی چھٹیوں کے دوران کاروبار اور بازار بند رہیں گے، وفاق پاکستان

0

حکومت خیبرپختونخوا نے صوبہ میں ایپیڈمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس نافذ کردیا ہے، قرنطنیہ سینٹرز سے بھاگنے پر دو ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، قرنطینہ سنٹرسے دوسری بار بھاگنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔۔۔

کراچی/پشاور/اسلام آباد (میزان نیوز) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 47 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان میں متاثرین کی تعداد 43 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ 900 سے زیادہ افراد اب تک اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں، پاکستان میں سب سے زیادہ 334 ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں، حکومت خیبرپختونخوا نے صوبہ میں ایپیڈمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس نافذ کردیا ہے، جس ے تحت قرنطنیہ سینٹرز سے بھاگنے پر دو ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، قرنطینہ سنٹر سے دوسری بار بھاگنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، آرڈننس کے تحت کورونا سے متاثرہ فرد اپنی ہسٹری سمیت دیگر افراد سے ملاقاتوں کی تفصیل دینے کا پابند ہوگا، پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ عید کی چھٹیوں کے دوران ضروری اشیا کی دکانوں کے علاوہ کاروبار اور بازار بند رہیں گے، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے خطے میں کورونا کے بڑھتے کیسز کی بنا پر پیر کی رات سے دو ہفتے تک مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بلوچستان میں کورونا کے 128 نئے کیسز کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 2820 ہوگئی ہے، جبکہ مزید ایک مریض کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد 38 ہوگئی ہے، محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 18 مئی 2020 کو کورونا کے 417 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 128 پازیٹو آئے، بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 18438 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 15618 نتائج منفی آئے، حکومت خیبرپختونخوا نے صوبہ میں ایپیڈمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس نافذ کردیا ہے، اب قرنطنیہ سینٹرز سے بھاگنے پر دو ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، قرنطینہ سنٹر سے دوسری بار بھاگنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، آرڈننس کے تحت کورونا سے متاثرہ فرد اپنی ہسٹری سمیت دیگر افراد سے ملاقاتوں کی تفصیل دینے کا پابند ہوگا، آرڈننس کے تحت تعلیمی اداروں کے ماہانہ فیسوں میں 20 فیصد ریلیف دی جائے گی، کوئی بھی مالک مکان کرایہ دار کو گھر سے نہیں نکالے گا، کورونا سے متاثرہ 80 گز کے مکان کے فرد سے پانی کا بل وصول نہیں کیا جائے گا، 800 اسکوائر فٹ والے فلیٹ کے مالک بھی پانی کے بل سے مسستنیٰ ہوں گے۔

Share.

About Author

Leave A Reply