عمران خان، انڈین مسلمانوں کی نہیں اپنے ملک کی فکر کریں، اویسی

0

زمینی طاقت ہماری ہندوستانیت اور ہماری مذہبی شناخت کو نہیں چھین سکتی کیونکہ ہندوستانی آئین نے ہمیں اس کی ضمانت دی ہے پاکستان اکثر جعلی ویڈیوز سے ہمیں مایوس کرتا ہے، حالانکہ ان مظالم کے خلاف بڑی تعداد میں اصل شواہد موجود ہیں۔۔۔

نئی دہلی (میزان نیوز) انڈیا میں مسلمانوں کے ایک رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ انڈین مسلمانوں کی نہیں اپنے ملک کی فکر کریں، اویسی نے کہا ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے اور قیامت تک ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر رہے گا انشاءاللہ ہم نے اسی وجہ سے پہلے ہی جناح کے غلط نظریئے کو مسترد کردیا تھا، ال آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی بنگلہ دیش کی ویڈیو کو اترپردیش کی بتائے جانے پر بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں ہندوستان کے مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے پاکستان میں سکھوں اور گردواروں پر حملے روکنے چاہیں، جنوبی ریاست تلنگانہ کے سنگاریڈی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا میں پاکستان کے وزیراعظم سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے وزیراعظم آپ ہندوستان کی فکر کرنا چھوڑ دیں، اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔۔۔ جناب عمران خان آپ کو اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیئے۔۔۔ مسٹر خان! میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی ہمیں یاد نہ کریں، انھوں نے کہا زمین پر کوئی طاقت ہماری ہندوستانیت اور ہماری مذہبی شناخت کو نہیں چھین سکتی کیونکہ ہندوستانی آئین نے ہمیں اس کی ضمانت دی ہے، اس کے ساتھ انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہماری بہت فکر ہے بھارت بھارت بھارت اور ان کو پاکستان پاکستان پاکستان ان کا اشارہ بی جے پی کی جانب تھا جو کہ مبصرین کے مطابق پاکستان کے نام پر اپنی سیاست میں توانائی بھرنے کا کام کرتی ہے، اس سے قبل انھوں نے دی ہندو اخبار کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انتہا پسند سفاک مودی سرکار ریاستی دہشت گردی پر اتری ہوئی ہے اور دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، اقوام عالم آخر کب تک چپ سادھے مودی سرکار کی بربریت کا نظارہ کرتی رہیں گی، انڈیا کی سرکردہ ایکٹوسٹ شہلا رشید نے بھی عمران خان کی ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان اکثر جعلی ویڈیوز سے ہمیں مایوس کرتا ہے، حالانکہ ان مظالم کے خلاف بڑی تعداد میں اصل شواہد موجود ہیں، انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے گوشے گوشے میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ عدالت عظمی میں اس کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کی گئی ہیں جن پر سماعت 22 جنوری کو ہوگی۔

Share.

About Author

Leave A Reply