امریکی ایما پر عمران، میکرون اور شنزو ایرانی ردعمل رکوانے کیلئے سرگرم

0

ایران کی حکومت امریکا کی جانب سے بعض عالمی لیڈروں کے توسط سے جاری سفارت کاری کا جواب نہیں دے رہی ہے لہذا ہم انتظار کی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کررہے ہیں پاکستانی وزیراعظم ایران امریکہ کشیدگی ختم کرانے کیلئے سرگرم ہیں۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان دنیا کے ان رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کیلئے آف ریمپ ڈپلومیسی میں مصروف عمل ہیں لیکن ایران کی حکومت امریکا کی جانب سے بعض عالمی لیڈروں کے توسط سے جاری سفارت کاری کا جواب نہیں دے رہی ہے لہذا ہم انتظار کی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کررہے ہیں، موجودہ امریکا ایران تنازع پر بریفنگ کے دوران عہدیدار نے کہا کہ آف ریمپ یہاں 3 سال سے ہے، عہدیدار نے کہا کہ امریکا کی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون، جاپان کے وزیراعظم شنزو ابے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور عمان کے سلطان دنیا کے تمام حصوں سے ان تمام ممالک نے ایران کی حکومت سے رابطہ کیا ہے، خیال رہے کہ 3 جنوری کو بغداد میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد پاکستان نے امریکا اور ایران دونوں ممالک سے مزید کشیدگی سے گریز کرنے پر اصرار کیا تھا، دو روز قبل پاکستان نے خطے میں کسی تنازع کا حصہ نہ بننے کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی تھی اور مشرق وسطیٰ میں جاری بحران میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی، وزیراعظم عمران خان نے خلیج نما عرب میں تناؤ کے خاتمے کی کوشش کے تحت اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کیلئے اکتوبر 2019 میں ایرانی دارالحکومت کا دورہ کیا تھا، انہوں نے اس معاملے پر مزید بات چیت کیلئے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا، واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ عالمی رہنما ایرانی قیادت کو بہتر فیصلے لینے پر آمادہ کرنے میں ناکام ہوگئے تھے جس کی وجہ سے امریکا معاشی پابندیوں اور جنرل سلیمانی کے قتل جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوا، امریکی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا سے تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری پر توجہ دینے کے بجائے ایرانی رہنما موجودہ بحران اور قدس فورس کے سربراہ کی شہادت کی آخری رسومات میں مصروف ہیں، دوسری جانب ایران نے ایسے دعووں کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے امن معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے، ایرانی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مذاکراتی حل تلاش کرنے کیلئے امریکہ نے تمام عالمی کوششوں میں حصہ لیا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ ہمیشہ پابندیوں اور فوجی اقدامات میں زیادہ دلچسپی لیتی رہی، دو روز قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ 2015ء میں امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت جوہری پروگرام پر پابندیوں پر مزید عمل نہیں کرے گا، خیال رہے کہ امریکا کے علاوہ چین، روس، جرمنی اور برطانیہ نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

Share.

About Author

Leave A Reply