عراق میں مظاہرین پر فائرنگ کرنیوالے دو دو نامعلوم افراد گرفتار

0

بغداد کے سکیورٹی اور میڈیکل ذرائع کے مطابق 5 روز سے جاری پُر تشدد مظاہروں میں ابتک تقریباً 100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں عراقی فوج مطابق نامعلوم اسنائپرز نے دو پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد کو ہلاک کردیا بغداد میں دن کا کرفیو ختم۔۔۔

بغداد (میزان نیوز) عراق کے پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق حکومت کے خلاف پانچ روز سے جاری مظاہروں میں اب تک تقریباً 100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، سکیورٹی اور میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مظاہرین کے تشدد آمیز اقدامات کے سبب ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے، عراق کے السومریہ نیوز چینل نے ایک پارلیمانی ذریعے کے حوالے سے خبردی ہے کہ اسپیکر محمد حلبوسی نے سینچر کو پارلیمنٹ کی عمارت میں مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے، اس ملاقات کا مقصد قانون کے دائرے میں مظاہرین کے مطالبات اور انہیں پورا کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینا بتایا گیا، اس درمیان عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے عراقی صدر برھم صالح سے ملاقات کی جس میں ملک کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا، ملاقات میں عراقی صدر اور وزیراعظم دونوں نے عراقی نوجوانوں کے جائز مطالبات پورے کرنے کا عزم ظاہر کیا، اعلیٰ عراقی قیادت نے اس ملاقات میں کہا کہ مظاہرین کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے اور عراقی نوجوانوں کے مطالبات اس طرح سے پورے کئے جائیں گے وہ آبرومندانہ زندگی بسر کرسکیں، دوسری جانب عراقی میڈیا نے خبردی ہے کہ عراقی سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے الدیوانیہ شہر میں دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے جو مظاہرین پر فائرنگ کررہے تھے، فوج کا کہنا ہے کہ بغداد میں نامعلوم اسنائپرز نے دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا، دوسری جانب حکام نے سنیچر کی علی الصبح دارالحکومت بغداد میں دن کا کرفیو ختم کر دیا ہے، عراق کے وزیرِ اعظم عادل عبدالمہدی نے اس سے قبل کہا تھا کہ مظاہرین کے ‘جائز مطالبات’ سن لیے گئے ہیں اور انھوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی، مگر وزیرِ اعظم کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود سینکڑوں عراقی افراد جمعے کو سڑکوں پر موجود رہے، غیر معینہ مدت کیلئے نافذ کرفیو اور انٹرنیٹ بندشیں بھی مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے میں ناکام رہیں، وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی کمزور حکومت کے اقتدار میں آنے کے تقریباً ایک سال کے اندر ان مظاہروں کو ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج کہا جا رہا ہے، اس سے قبل بغداد سمیت ملک کے متعدد شہروں میں منگل کو اچانک بیروزگاری کی بلند شرح، بنیادی سہولیات کی ناگفتہ بہ صورت حال اور شدید بدعنوانی کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، یہ احتجاج عبدالمہدی کی حکومت کے سال مکمل ہونے کے موقع پر آن لائن دی گئی کال کے جواب میں کیا گیا ہے اور بظاہر مظاہرین میں کوئی منظم قیادت نہیں ہے، اقوام متحدہ اور امریکہ نے ان مظاہروں میں ہونے والے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply