عراق: امریکی اڈوں سے فوج نکال لی تھی، معمولی نقصان ہوا، ٹرمپ

0

امریکہ نے ٹرمپ کےدور صدارت میں دو عشاریہ تین کھرب ڈالر جنگ کیلئے خرچ کیے ہیں اور امریکہ نے زیادہ مہلک، زیادہ بڑے، زیادہ تباہ کن اور تیر با ہدف میزائل بنائے ہیں اور اس کے علاوہ آواز کی رفتار سے تیز میزائل بھی بنائے جارہے ہیں۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کے بعد باقاعدہ ردِ عمل میں کہا کہ عراق میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں میں کوئی امریکی نہیں مارا گیا، امریکہ کا معمولی نقصان ہوا ہے کیونکہ امریکی فوج وہاں سے نکال لی تھی، احتیاطی تدابیر کی وجہ سے کوئی امریکی یا مقامی ملازم ان حملوں میں نہیں مارا گیا، انھوں نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ ایران پیچھے ہٹ رہا ہے جو دنیا کیلئے بہت اچھی بات ہے، امریکہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کررہا ہے، انھوں نے عہد کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا، انھوں نے اپنے مغربی اتحادیوں برطانیہ، فرانس، جرمنی کے علاوہ روس اور چین سے کہا ہے کہ وہ سنہ 2015ء میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہو جائیں، امریکی صدر نے کسی ثبوت کے بغیر الزام لگایا کہ ایرانی حکومت نے اپنے ہی ملک میں حکومت مخالف ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو ہلاک کیا جبکہ اس سے قبل امریکہ نے سرکاری طور پر 216 افراد کے مارے جانے کی اطلاع دی تھی، امریکی صدر نے ایران سے مخاطب ہوکر کہا کہ ایران کو اپنے جوہری عزائم اور دہشت گردوں(مجاہدین اسلام) کیلئے حمایت کو ختم کرنا ہوگا، انھوں نے روس، چین، فرانس اور جرمنی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کریں آپ حقیقت کو تسلیم کریں، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایک نئے معاہدے کے تحت ایران سے دنیا کو محفوظ کیا جا سکے، میں نیٹو سے کہتا ہوں کہ مشرق وسطٰی میں زیادہ مداخلت کرے، یہ ہماری اسٹریٹیجک ترجحیح ہے، امریکی صدر کا کہنا تھا امریکہ خود دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی پیداوار والا ملک ہے، ہم مشرق وسطی کے تیل کے پیچھے نہیں ہیں، امریکہ اقتصادی اور فوجی طور پر مستحکم ہے، صدر ٹرمپ نے اس بیان میں کہا کہ ان کے دور میں دو عشاریہ تین کھرب ڈالر جنگ کیلئے خرچ کیے ہیں اور امریکہ نے زیادہ مہلک، زیادہ بڑے، زیادہ تباہ کن اور تیر با ہدف میزائل بنائے ہیں اور اس کے علاوہ آواز کی رفتار سے تیز میزائل بھی بنائے جا رہے ہیں، امریکی صدر نے خطاب میں کہا اگرچہ امریکہ کے پاس عظیم فوج اور ہتھیار ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انہیں استعمال کریں، ہم انہیں استعمال نہیں کرنا چاہتے، عراق میں امریکی اڈون پر ایرانی میزائل حملوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں یہ بتاتے ہوئے خوش ہوں کہ کوئی امریکی نہیں مارا گیا، معمولی نقصان ہوا، احتیاطی تدابیر کی وجہ سے کوئی امریکی یا مقامی ملازم ان حملوں میں نہیں مارا گیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply