عراقی مظاہرین سے مذاکرات، بدعنوان سرکاری ملازمین کی برطرفیاں

0

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے مطابق مظاہرین پر کوئی تشدد نہیں کیا جارہا ہے اور آئندہ بھی نہیں کیا جائیگا حکومت نے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کردیا ہے عراق میں مظاہروں کے بارے میں اناسی فیصد ٹوئیٹس سعودی صارفین کے ہیں ۔۔۔

بغداد (میزان نیوز) عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ حکومت عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی، اس درمیان اطلاعات ہیں کہ جن بعض علاقوں میں بیروزگای اور بدعنوانیوں کے خلاف مظاہرے کئے جارہے تھے وہاں اب حالات معمول پر لوٹ آئے ہیں، فارس نیوز ایجنسی کے مطابق عراقی وزیراعظم نے جمعہ کی صبح ٹیلی ویژن پر اپنے براہ راست خطاب میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عوام پر اپنی آواز پہنچانے کیلئے کوئی پابندی نہیں ہے، عراق کے تمام صوبوں میں حالات کو معمول  پر لانے کی ہدایات جاری کیں ہیں، اُنھوں نے کہا کہ مظاہرین پر کوئی تشدد نہیں کیا جا رہا ہے اور آئندہ بھی نہیں کیا جائے گا ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت نے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کردیا ہے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کر سکیں اور اس سلسلے میں حکومت پارلیمنٹ میں ایک بل  پیش کرے گی تاکہ اس کے مطابق حکومت غریب خاندانوں کو ماہانہ امداد فراہم کرسکے، اُنھوں نے مزید کہا کہ حکومت نے حالیہ مظاہروں میں گرفتار کئے جانے والے تمام مظاہرین کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے البتہ رہا ہونے والوں میں وہ افراد شامل نہیں ہوں گے جنھوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے، عراق کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ کے ترجمان یحیی رسول نے بھی  جمعرات کو اعلان کیا کہ بغداد اور دیگر تمام صوبوں میں سکیورٹی کی صورت حال پوری طرح کنٹرول میں ہے تاہم حفظ ما تقدم میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے، بغداد سمیت عراق کے بعض صوبوں میں بیروزگاری، شہری سہولتوں کی خراب صورت حال اور سرکاری دفاتر میں بدعنوانیوں کے خلاف حالیہ دنوں ہونے والے مظاہروں میں ابتک 41 افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں، دوسری جانب عراق میں انسداد بدعنوانی کے محکمے نے وزیراعظم کی زیر صدارت جمعرات کو ایک اجلاس میں بتایا کہ بدعنوانی کے الزام میں تقریبا ایک ہزار سرکاری ملازمین کو برطر ف کردیا گیا ہے، دریں اثنا عراقی وزیرا‏عظم کے دفتر نے جمعرات کو ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مظاہرین کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے ان کے نمائندوں سے رابطے شروع کردیا ہے، خیال رہے کہ عراق میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں اناسی فیصد ٹوئیٹس سعودی صارفین کے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply