عراقی پارلیمنٹ میں امریکی فوج کو نکالنے کیلئے قانون سازی کی جائیگی

0

قاسم سلیمانی کے قتل بعد عراق میں موجود امریکی افواج کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا عراق کی مسلح افواج کی کمانڈ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ عراقی فوج کی اجازت سے ہی امریکی فوج عراق میں کسی طرح کی فوجی کارروائی کرسکے گی۔۔۔

بغداد (میزان نیوز) عراقی پارلیمنٹ میں الصادقون نامی ایک بڑے پارلیمانی گروپ نے عراق سے امریکی فوج کو فوری طور پر نکالنے کا قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اُدھر عراق کی مسلح افواج کی کمانڈ نے عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے لئے شرائط اور پابندیاں عائد کردی ہیں، عراق کی مسلح افواج کی کمانڈ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ عراق کی فوج کی اجازت سے ہی امریکی فوج عراق میں کسی طرح کی فوجی کارروائی کر سکے گی، عراق کی مسلح افواج کی کمانڈ کی جانب سے یہ فرمان امریکی فوج کی دہشت گردی پر مبنی کارروائی کے دوران سپاہ پاسداران کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ اور عراقی فورس الحشدالشعبی کے نائب سربراہ ابومہدی المھندس کو شہید کئے جانے کے بعد جاری ہوا ہے، دریں اثنا عراق کے الصادقون دھڑے نے امریکی فوجیوں کو ملک سے باہر نکالنے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون منظور کئے جانے کی حمایت میں اسّی سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرلی ہے، عراقی عوام اور حکام ایک عرصے سے امریکی فوجیوں کو اپنے ملک سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، عراقی پارلیمنٹ میں الصادقون پارلیمانی دھڑے کے ترجمان حمد اللہ الرکایی نے ہفتے کو کہا کہ پارلیمنٹ میں ایک ایسا واضح بل پیش کیا جانا چاہیئے کہ جس میں عراق سے امریکی فوج کے انخلا کی صراحت کے ساتھ بات کی گئی ہو، الصادقون دھڑے کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کے غاصبانہ قبضے کے خلاف استقامت عراق کی سبھی سیاسی اور ملی جماعتوں کا مضبوط موقف ہے اور عراقی عوام اور حکام کافی عرصے سے اپنے ملک سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کررہے ہیں، عراقی پارلیمنٹ میں الصادقون دھڑے کے ترجمان نے دہشت گرد امریکی فوج کے ہاتھوں سپاہ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کا یہ مجرمانہ اقدام عراق کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہے اور الصادقون پارلیمانی دھڑا امریکا کے غاصبانہ قبضے کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا، اس گروپ کو عراقی پارلیمنٹ میں اسی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply