طالبان کا تعلیمی مرکز پر خودکش حملہ 13 شیعہ طالبعلم شہید 30 زخمی

0

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین کے مطابق خود کش حملہ آور نے تعلیمی مرکز میں داخل ہونیکی کوشش کی لیکن وہاں موجود سکیورٹی گارڈز نے اس حملہ آور کو شناخت کرلیا جس کے بعد حملہ آور نے اپنے آپ کو باہر گلی میں ہی دھماکے سے اڑا دیا۔۔۔

کابل (میزان نیوز) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک تعلیمی مرکز کے باہر ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے ہیں، افغان وزارت داخلہ کے مطابق یہ خود کش حملہ سنیچر کی شام کو ایک نجی تعلیمی مرکز کے باہر ہوا جہاں طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں، کابل کے علاقے دشت برچی میں واقع اس تعلیمی مرکز کی عمارت میں اکثریت شیعہ مسلمان طلبا کی ہے جن کی عام طور یہاں تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے، دھماکے کے متعدد زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا، جبکہ اس حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے تسلیم نہیں کی ہے، طالبان نے بھی اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، تاہم لواحقین نے طالبان کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کش حملہ آور نے اس تعلیمی مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی، ترجمان کے مطابق وہاں پر موجود سکیورٹی گارڈز نے اس حملہ آور کو شناخت کرلیا جس کے بعد اس نے اپنے آپ کو باہر گلی میں ہی دھماکے سے اڑا دیا، خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، واضح رہے رواں برس ستمبر میں افغان طالبان اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے تحت ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں دونوں فریقین کی جانب سے دہائیوں سے جاری تشدد اور ایک دوسرے پر حملوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply