طالبان سے ہونیوالی بات چیت، مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، ٹرمپ

0

افغان حکومت نے مذاکرات کی منسوخی کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ دیرپا امن کیلئے پرعزم ہیں افغان حکومت نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کیساتھ مل کر قیام امن کیلئے کام کریں طالبان نے کچھ ایسا کیا تھا جو انھیں بالکل نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے طالبان سے ہونے والی بات چیت مکمل طور پر ختم (مردہ) ہوچکی ہے، پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ ختم (ڈیڈ) ہو چکے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری میٹنگ (کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات) طے شدہ تھی، میٹنگ بلانے کا آئیڈیا بھی میرا تھا اور اس کو منسوخ کرنے کا بھی میں ہی ذمہ دار ہوں، یہاں تک میں نے کسی اور سے اس پر تبادلہ خیال نہیں کیا تھا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے کیمپ ڈیوڈ میٹنگ کو اس بنیاد پر منسوخ کردیا کیونکہ انھوں (طالبان) نے کچھ ایسا کیا تھا جو انھیں بالکل نہیں کرنا چاہیئے تھا، یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکہ اور افغان طالبان افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کے بظاہر بالکل قریب آ چکے تھے تاہم کابل میں ہوئے ایک حملے کے بعد یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے، کابل میں ہونے والے طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد آٹھ ستمبر کو امریکی صدر نے اپنی ٹویٹس کے ذریعے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کیلئے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ جھوٹے مفاد کیلئے طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی، وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟ امریکی فوجی کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کی تھی بلکہ افغان صدر سے گذشتہ اتوار کو طے شدہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان بھی کیا تھا، کابل حملے کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں، واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے مابین جاری امن مذاکرات کے نو دور ہو چکے ہیں، افغان حکومت نے مذاکرات کی منسوخی کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ دیرپا امن کیلئے پرعزم ہیں، انھوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر قیام امن کیلئے کام کریں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کر دینے کے اعلان کے بعد طالبان نے ردعمل میں کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی کا سب زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply