طالبان امریکیوں کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

0

طالبان کے حامی اور ہمدردوں کو خیال ہے کہ اُن کے شدید حملوں نے امریکیوں کو ہار ماننے پر مجبور کردیا ہے افگانوں کو کسی بھی غیر ملکی کو اہمیت دینے کی ضرورت ہی نہیں ہےافغان آپس میں بہت لڑ چکے ہیں اور یہ لڑائی آج تک جاری ہے۔۔۔

کابل/ہرات (میزان نیوز) طالبان کے وفادار اور حمایتی امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر خوش ہیں کہ اٹھارہ سال کی شدید جنگ کے بعد شکست خوردہ امریکی حملہ آور آخر کار افغانستان چھوڑ کر اپنے گھر واپس چلے جائیں گے، طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ طالبان کی مختلف یقین دہانیوں کے عوض پینٹاگون اس ملک میں اپنے فوجیوں کی تعداد انتہائی کم کر دے گا، طالبان اور ان کے حمایتی اسے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں، اس حوالے سے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے قندہار میں متعدد طالبان جنگجوؤں اور ان کے حمایتیوں سے گفتگو کی ہے، یہ جنوبی صوبہ افغان طالبان کی جائے پیدائش بھی ہے اور ابھی تک اسے طالبان کا سب سے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے، محمد منظور حسینی ماضی میں طالبان کیلئے لڑتے رہے ہیں لیکن دو سال پہلے وہ پاکستان جا کر روپوش ہوگئے تھے اور اب دوبارہ قندہار آچکے ہیں، ان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام افغان ایسا امن چاہتے ہیں، جس کی بنیاد اسلامی اقدار پر ہو، یہ بالکل ویسا ہی جملہ ہے، جو طالبان امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک استعمال کرتے آئے ہیں، حسینی کا کہنا تھا کہ افغان امن چاہتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ وہ ایک ایسا پروقار امن چاہتے ہیں، جس کی بنیاد اسلامی اقدار پر ہو اور تمام افغانوں کے مابین بھی امن ہونا چاہیئے، حسینی کا مزید کہنا تھا، افغانوں کو ایک دوسرے پر اعتبار ہونا چاہیئے اور انہیں ایک دوسرے سے مخلص بھی ہونا چاہیئے، کسی بھی غیر ملکی کو اہمیت دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے، حسینی کے مطابق اگر معاملات کو صحیح انداز میں حل نہ کیا گیا تو یہ جنگ مزید بیس سال تک جاری رہنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ممالک تک پھیل سکتی ہے، حافظ محمد ولی زابل صوبے کے  ڈسٹرکٹ شاہ جوی میں مالی کا کام کرتے ہیں، یہ صوبہ قندہار کے ساتھ ہی واقع ہے، وہ بھی یہ خبر سن کر خوش ہیں کہ امریکا اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لے گا، ہم تقریبا بیس برسوں سے یہ خبر سننے کے انتظار میں تھے کہ امریکی شرمندگی کے ساتھ افغانستان سے نکل رہے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ اب اس ملک میں امن کی دعا کر رہے ہیں، ہم بہت لڑ چکے ہیں اور یہ لڑائی آج تک جاری ہے، طالبان کے کئی دیگر حمایتوں کی طرح ولی بھی اس حوالے سے پریشان ہیں کہ آیا افغان حکومت اور طالبان کے مابین بھی کوئی امن معاہدہ طے پا سکے گا؟ قصبوں اور دیہاتوں میں افغان کئی برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، کیا یہ ایک ساتھ مل کر بیٹھیں گے؟ صرف میں ہی اس حوالے سے فکرمند نہیں ہوں باقی دیہاتی بھی ایسا ہی سوچ رہے ہیں، صوبہ ہلمند کی مارجہ ڈسٹرکٹ میں طالبان کمانڈر ملا گل آغا کا کہنا تھا کہ افغان کبھی بھی غیر ملکیوں کو اپنا آقا تسلیم نہیں کریں گے، افغان عشروں سے حملہ آوروں کے خلاف لڑرہے ہیں، پہلے یہ روسی تھے لیکن آج امریکی اور برطانوی ہیں، خدائے عزوجل کی مدد سے ہم نے ایک مرتبہ پھر انہیں شکست دے دی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply